مساوی حقوق اور ایرانی عورت | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
خواتین کے عالمی دن سےکچھ روز قبل تہران میں عدالت کے سامنے پرامن مظاہرہ کرتے ہوئے تینتیس عورتوں کو گرفتار کر لیاگیاتھا جن میں سے آٹھ کو بعد میں رہا کر دیا گیاہے۔ گرفتار شدگان میں سے ایرانی خواتین کی تحریک کی نامور اراکین شامل ہیں جو ایک عرصے سے خواتین کے حوالے سےامتیازی قوانین کو ختم کرنے کا مطالبہ کررہی ہیں ۔ ایسی خواتین کو ڈھونڈنا مشکل نہیں جو ان قوانین کے بننے کے بعد سےبڑی مشکلات کا شکارہوئی ہوں۔ ’یہ میرے بیٹے کی اس وقت کی تصویر ہے جب وہ پیدا ہوا تھا،۔فروغ نے مجھے اپنے چھوٹے سے اپارٹمنٹ میں ،جہاں وہ ا کیلی رہتی ہیں،پرانےالبم دکھاتے ہوئے بتایا۔ علی رضا کی عمر سات سال ہےاور فروغ نے انہیں گزشتہ کئی ماہ سے نہیں دیکھا ہے۔ جب اس نے اپنے خاوند سے علیحدگی کا فیصلہ کیا تو جج نے ان کے بچے کووالد کے حوالے کر دیا۔ ’میرے شوہر گھر میں گھستے ہی چلانا شروع کردیتے ار یہ سلسلہ ان کے باہر جانے تک جاری رہتا۔ انہیں یاد ہے کہ ’ اکثر اوقات لڑائی مار پیٹ پر آکر ختم ہوتی،۔ وہ کہتی ہیں کہ علی رضا ان کو بچانے کیلئے بھاگتا اوراپنےباپ سے کہتا کہ’میری ماں کو کچھ نہ کہیں۔لیکن وہ اس کو مارتے اور دور پھینک دیتے،۔ جج نے کہا تھا کہ فروغ ہفتہ میں بارہ گھنٹے کیلئےصرف ایک دفعہ اپنے بیٹے سے پولیس سٹیشن میں مل سکتی ہیں۔مگر بچہ اتنا خوفزدہ ہوتا کہ اس نے ملنا چھوڑدیا۔ اب فروغ کے سابقہ شوہر نے نہ صرف ان کے ملنے بلکہ فون پر بات چیت پر بھی پابندی لگادی ہے۔ فروغ ان حالات کے نتیجے میں علی رضا کو پہنچنے والے نقصان پر پریشان ہیں۔ ’ایک مرتبہ جب وہ کئی مہینے بعد مجھ سے ملنے آیا تو میں نے اس سے پوچھا کہ کیا تم اس بات پر پریشان ہو کہ میں نےتمھارے باپ سے علیحدگی اختیار کر لی ہے اورتم مجھ سے دورہوگئے ہو۔تو اس نے کہا کہ نہیں مجھے پتا ہے کہ میرے ابو آپ کو کتنا تنگ کرتے تھے،۔فروغ نے روتے ہوئے بتایا۔
فروغ کی کہانی بتاتی ہے کہ ایران میں عورتوں کے خلاف قوانین کی شدت کتنی زیادہ ہے۔دو سالہ لڑکا یا سات سال کی لڑکی خود بخود ہی باپ کے حوالے ہو جاتی ہے۔ فروغ نے اپنا بیٹا کھو دیا اور اپنے شوہر سے کوئی مالی معاونت بھی حاصل نہ کر سکیں۔ لیکن ان حالات کو بدلنے کیلئے کوششیں کرنے والے بھی موجود ہیں۔ پریساگلیوں میں موجودمکمل طور پر اجنبیوں سےملتی ہیں اور ان سے خواتین کی قانونی حیثیت کے بارےمیں بات چیت کرتی رہتی ہیں ۔ وہ ایک عرضداشت پر لوگوں سے دستخط لے رہی ہیں جس میں یہ مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ اسلام میں عورتوں کےلئےمخصوص امتیازی قوانین کومنسوخ کیا جائے۔ اس مہم نے بہت سی ایرانی خواتین کو متاثر کیا جو اپنےساتھ رواں رکھے جانے والےدوسرے درجے کی شہریت کے سلوک سے تنگ آچکی ہیں ان میں ماہ نوش بھی شامل ہیں۔ ماہنوش نے ابھی اس عرضداشت پر دستخط کئے ہیں اور انہوں نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ ’میں اس بات پر احتجاج کرنا چاہتی ہوں کہ مجھے ایک مرد کے نصف کی حیثیت حاصل ہے ۔۔۔یہ بھی ممکن ہے کہ میں ایک مرد سے زیادہ قابل یا مؤثر ہوں۔ تو میرے حقوق اس کے مقابلے میں آدھے کیوں ہوں؟۔ ان کی دوست شیمانے بھی دستخط کئے ۔ وہ کہتی ہیں کہ انہوں نے اس کی وجہ بہت سی خواتین کو تکالیف برداشت کرتے ہوئے دیکھا ہے جن میں طلاق کے بعد ان کی اپنی ماں کے حالات بھی شامل ہیں۔ ’طلاق کے حق کا استعمال یہاں ایک قابل نفرت عمل ہے۔میں نے عورتوں کو عدالت جا کر یہ کہتے ہوئے دیکھا ہے کہ ان کے خاوند نشے کے عادی ہیں۔ جج کم ازکم آپ کی مدد کر سکتے ہیں لیکن وہ پھر بھی یہ کہتے ہیں کہ ان کے ساتھ رہو۔ججوں کو خواتین کی قدر و قیمت کا اندازہ ہی نہیں ہے یہ قابل نفرت ہے،۔ پریسا دستخط لیتے ہوئے اپنی تصویریں لی جانے سے پریشان ہے۔
انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ’حکام خواتین کی تحریک کے مطالبات سننے کو تیار نہیں کیوں کہ وہ سمجھتے ہیں کہ ہم مغرب کے زیراثر ہیں،۔ وہ کہتی ہیں کہ دلچسپ بات یہ ہے کہ امیر مغرب زدہ خواتین اس مہم کی اتنی حامی نہیں جتناکہ غریب اور قدامت پسند گھرانوں کی خواتین ہیں۔ پریسا کا خیال ہے کہ اس کی وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ مڈل کلاس خواتین مصیبت کے وقت کسی اچھے وکیل کا خرچہ برداشت نہیں کر سکتیں۔ گزشتہ سال جون میں ایران کے سب سے بڑے چوک میں اس قانون کو بدلنے کیلئےایک ملین دستخط اکھٹے کرنےکی مہم شروع کرنے کیلئے پرامن مظاہرہ کیا گیا تھا ۔ خواتین کے حقوق کیلئے کام کرنے والے گھاس پر بیٹھے رہے اور خواتین کے حقوق کے نغمے گاتی رہیں۔ کچھ لمحوں بعد ہی پولیس نےان کو مارنا پیٹنا شروع کردیا اور ان پر آنسوگیس دل آرام نے بتایاکہ’مجھ پر قومی سلامتی کے خلاف کام کرنے، امن عامہ میں خلل ڈالنے، موجودہ نظام کے خلاف مبالغہ آرائی کرنے اور غیر قانونی مخالف گروہوں سے تعلق رکھنے جیسے الزامات ہیں،۔ انہوں نے مزید بتایا کہ گزشتہ سال جون میں پولیس نے مظاہرے کے دوران میرا ہاتھ زخمی کرنے کے بعد مجھے پکڑ کر ایون جیل میں تین دن تک قید تنہائی میں رکھا۔ دل آرام کا دفاع ایران کی بہترین خاتون وکیل شیرین عبادی کر رہی ہیں، جوانسانی حقوق کیلئے کام کرنے پر امن کانوبل انعام بھی حاصل کر چکی ہیں۔ مسز عبادی کا کہنا ہے کہ ایرانی قانون پر امن مظاہرے کی اجازت دیتا ہے اور پر تشدد کارروائی کرنے پرمقدمہ مظاہرین کی بجائے پولیس کے خلاف درج کرنا چاہئے۔ انہوں نے مزید وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ’ہم نے پولیس کے خلاف شکایت درج کی ہے۔لیکن بدقسمتی سے دس ماہ گزرنےاورکئی مرتبہ یاددہانیوں کے باوجود مقدمے کی پیروی کرنے کیلئےکوئی نہیں آیا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||