’سفارتی حل کے لیے کوشاں رہیں گے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی صدر جارج بش اور جرمن چانسلر اینگلا مرکل نے کہا ہے کہ امریکہ اور جرمنی دونوں ایران کے جوہری پروگرام کے سفارتی حل کے لیے کوششیں جاری رکھیں گے۔ ریاست ٹیکساس میں صدر بش کی ذاتی رہائش گاہ پر جرمن اور امریکی رہنماؤں کے باہمی مذاکرات کے بعد امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکہ ایران پر دباؤ ڈالنے کےلیے سفارتی ذرائع استعمال کرتا رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ’ایرانی حکومت کو یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ ہم اس معاملے کے سفارتی حل کے لیے کوشش کرتے رہیں گے۔ ایرانی عوام کو بھی یہ بات سمجھنی چاہیے کہ ہم ان کے ورثے اور روایات کا احترام کرتے ہیں لیکن یہ ان کی حکومت ہے جس کے فیصلوں کی وجہ سے انہیں ایک روشن مستقبل میسر نہیں‘۔ جرمن چانسلر اینگلا مرکل نے صحافیوں سے بات چیت کے دوران کہا کہ جرمنی ایران سے اپنے تجارتی تعلقات پر نظرِ ثانی کرے گا اور یہ بھی ممکن ہے کہ ایران کے جوہری عزائم کے خاتمے کے لیے مزید پابندیوں کی ضرورت پڑے ۔ ان کا کہنا تھا کہ’ ہم نے ایران کے موضوع پر بھی گفتگو کی۔ ہم دونوں میں اس بات پر اتفاق تھا کہ ایران کا جوہری پروگرام امن کے لیے کافی سنگین خطرہ ہے۔ مگر ہم دونوں اس بات پر متفق نظر آئے کہ یہ معاملہ سفارتی کوششوں سے حل کیا جا سکتا ہے اور ہم نے اس بارے میں اقدامات پر بھی بات کی‘۔ جرمن چانسلر نے یہ بھی کہا کہ اگر ایران اور یورپی یونین کے مذاکرات بےنتیجہ ثابت ہوتے ہیں اور عالمی جوہری ادارے کی رپورٹ ایران کے بارے میں عدم اطمینان کا اظہار کرتی ہے’تو پھر ایران پر مزید پابندیاں عائد کرنے پر غور کرنا ہوگا اور ان پر صرف بات ہی نہیں کرنا ہو گی بلکہ پابندیوں پر عملدرآمد کے لیے اتفاق رائے بھی پیدا کرنا ہوگا‘۔ واشنگٹن میں بی بی سی کے نمائندے ایڈم بروکس کے مطابق اگرچہ دونوں رہنما ایران کے حوالے سے ہم خیال نظر آئے لیکن امریکی ذرائع کے مطابق دونوں ممالک کے حکام کی بات چیت زیادہ مثبت نہیں رہی۔ | اسی بارے میں ایران کو افزودہ یورینیم کی پیشکش02 November, 2007 | آس پاس ’ایران پر فوجی حملہ ٹھیک نہیں‘ 30 October, 2007 | آس پاس پابندیاں بری طرح ناکام ہونگی: ایران26 October, 2007 | آس پاس ایران پر امریکہ کی نئی پابندیاں25 October, 2007 | آس پاس ’ایران کو ہتھیار نہیں مل سکتے‘22 October, 2007 | آس پاس سعید جلیلی پر سب کی’ کڑی نظر‘23 October, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||