BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 23 October, 2007, 00:31 GMT 05:31 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سعید جلیلی پر سب کی’ کڑی نظر‘

سعید جلیلی
سعید جلیلی صدر احمدی نژاد کے قریبی ساتھی سمجھے جاتے ہیں
جوہری معاملات پر ایران کے نئے مذاکرات کار سعید جلیلی منگل کو یورپی یونین کے ایلچی ہاویئر سولانا سے ملاقات کر رہے ہیں۔

علی لاریجانی کے استعفے اور سعید جلیلی کے ان کے جگہ تقرری کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ ایرانی جوہری مذاکرات کار کسی بات چیت میں شریک ہیں۔

اگرچہ ایران کی جانب سے کہا گیا ہے کہ نئے مذاکرات کار کی تقرری کا مطلب پالیسی میں تبدیلی نہیں تاہم پھر بھی عالمی سفارت کار اس ملاقات میں ایرانی رویے کا بغور جائزہ لیں گے۔

صدر احمدی نژاد کے قریبی ساتھی ہونے کی وجہ سے سعید جلیلی کی ہر بات کو اس حوالے سے پرکھا جائے گا کہ کہیں اس سے ایران کے ناقابلِ سمجھوتہ رویے کی جھلک تو نہیں دکھائی دے رہی۔

سابق مذاکرات کار علی لاریجانی بات چیت میں یقین رکھتے تھے۔ لاریجانی ہی وہ شحضیت ہیں جن کی کوششوں کی وجہ سے ایرانی قید سے برطانوی ملاحوں کی رہائی ممکن ہوئی تھی۔

اس کے برعکس ایرانی صدر کا رویہ بات نہ کرنے کا ہے۔وہ گزشتہ ماہ ہی اقوامِ متحدہ میں کہہ چکے ہیں کہ ایران کے جوہری معاملات پر ’مدعا تمام ہو چکا ہے‘۔

سعید جلیلی صدر احمدی نژاد کے ہمراہ
ایران جانتا ہے کہ پابندیوں سے بچنے کے لیے مذاکرات کا عمل جاری رکھنا ضروری ہے

اس وقت ایران اور مغرب کے درمیان ’مذاکرات برائے مذاکرات‘ کا عمل جاری ہے کیونکہ مغربی ممالک ایران کی جانب سے یورینیم کی افزودگی کی معطلی تک اس سے ٹھوس بات چیت کرنے سے انکار کر چکے ہیں۔مغربی ممالک کو خدشہ ہے کہ اگر افزودگی جاری رہی تو ایران بالاخر جوہری بم تیار کر لے گا۔

مذاکرات کا جاری رہنا ایران کے ہی حق میں ہے۔ ایران جانتا ہے کہ پابندیوں سے بچنے کے لیے مذاکرات کا عمل جاری رکھنا ضروری ہے چاہے وہ بارآور ہوں یا نہیں۔

ادھر ایرانی پارلیمان کے نائب سپیکر نے وہ بات علی اعلان کہی ہے جسے کئی لوگ ڈھکے چھپے الفاظ میں بیان کر رہے ہیں۔ محمد رضا باہنر کا کہنا ہے’ علی لاریجانی کے لیے یہ ممکن نہیں رہا تھا کہ وہ صدر احمدی نژاد کے ساتھ کام کریں‘۔اس بیان سے واضح ہے کہ ان دونوں شخصیات میں ایران کے جوہری معاملات پر اختلافِ رائے پایا جاتا تھا۔

تاہم یہ عجب بات ہے کہ علی لاریجانی منگل کو روم میں ہونے والے مذاکرات میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے نمائندے کی حیثیت سے موجود ہوں گے۔ اور آیت اللہ خامنہ ای کے ایک قریبی ساتھی کا یہ بھی کہنا ہے کہ علی لاریجانی کا استعفٰی قبول نہیں کیا جانا چاہیے تھا۔

لاریجانی کا سپریم لیڈر کے نمائندے کےطور پر روم جانا اور ان کےاستعفے کے حوالے سے آیت اللہ خامنہ ای کے قریبی ساتھی کا بیان اس بات کا مظہر ہے کہ ایرانی ایوانِ اقتدار میں جوہری معاملات پر اختلافات کی دراڑیں گہری ہوتی جا رہی ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد