سنگین نتائج بھگتنا ہوں گے: روس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
روس کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو چار روسی سفارتکاروں کی ملک بدری کے’سنگین نتائج‘ بھگتنا ہوں گے۔ برطانیہ نے سفارتکاروں کو ملک سے نکل جانے کا حکم روس کی جانب سے سابق روسی ایجنٹ الیگزینڈر لیتوینینکو کے قتل میں مطلوب سابق کے جی بی ایجنٹ کو برطانوی حکام کے حوالے کرنے سے انکار کے بعد دیا ہے۔ روسی حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ برطانوی سیاست میں’رشیو فوبیا‘ کی وجہ سے روس اور برطانیہ کے تعلقات میں دراڑ آ سکتی ہے۔ روسی وزارتِ خارجہ کے ترجمان میخائل کمیانن کا کہنا ہے کہ اس معاملے میں’ لندن کا عمل اخلاقی اصولوں کے منافی ہے‘۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ’ برطانوی حکام کی جانب سے اس قسم کے اشتعال انگیز اقدامات کا جواب ضرور دیا جائے گا اور اس کے نیتجے میں روس اور برطانیہ کے تعلقات پر انتہائی برے اثرات پڑ سکتے ہیں‘۔ سفارتکاروں کی ملک بدری پر روسی صدر ولادیمیر پوتن کے ترجمان دمیتری پیسکوو کا کہنا ہے کہ’ ہم ایک پنگ پانگ گیم میں پڑنا نہیں چاہتے۔تاہم روس کی جانب سے ضروری جواب دیا جائے گا‘۔ ماسکو میں بی بی سی کے نمائندے جیمز راجرز کے مطابق سفارتکاروں کی ملک بدری سے دونوں ممالک کے تعلقات سرد مہری کا شکار ہوگئے ہیں اور سرد جنگ کے بعد پہلی بار دونوں ممالک باقاعدہ طور پر ایک دوسرے کےسامنے کھڑے ہیں۔ اس سے قبل برطانوی وزیرِاعظم گورڈن براؤن نے کہا تھا کہ برطانیہ چار روسی سفارتکاروں کو ملک سے نکل جانے کا حکم دینے پر کوئی ’معافی‘ نہیں مانگے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ کیونکہ’ کوئی تعاون نظر نہیں آ رہا، اس لیے کارروائی کرنا ضروری تھا‘۔ تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ برطانیہ روس سے اچھے تعلقات چاہتا ہے۔
کے جی بی کے سابق ایجنٹ الیگزینڈر لیتوینینکو کو نومبر 2006 میں تابکاری مادے پولونیم۔210 کے ذریعے ہلاک کیا گیا تھا۔ ماہرین کے مطابق پولونیم۔210 ایک انتہائی تیز تابکار مادہ ہے اور اگر یہ خوراک یا سانس کے ذریعے انسانی معدے میں چلا جائے تو یہ پورے جسم میں سرعت کے ساتھ پھیل جاتا ہے۔ لیتوینینکو کے قتل میں ملوث ہونے کا شبہ کے جی بی کے ایک سابق ایجنٹ ایندرے لگووئے پر کیا جا رہا ہے اور ماسکو نے اس کو برطانیہ کے حوالے کرنے سے انکار کیا ہے۔ برطانوی وزارتِ خارجہ نے نکالے جانے والے روسی سفارتکاروں کے نام جاری نہیں کیے ہیں لیکن بی بی سی کو معلوم ہوا ہے کہ یہ سب انٹیلیجنس کے اہلکار ہیں۔ | اسی بارے میں برطانیہ نے روسی سفارتکار نکال دیے17 July, 2007 | آس پاس ’قتل میں روس کا ہاتھ ہو سکتا ہے‘10 December, 2006 | آس پاس روسی جاسوس: دوست بھی متاثر02 December, 2006 | آس پاس لندن: سابق روسی جاسوس چل بسے24 November, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||