لندن: سابق روسی جاسوس چل بسے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
روسی حکام نے اس بات کی ایک مرتبہ پھر تردید کی ہے کہ سابق روسی جاسوس الیگزینڈر لیتوینینکو کی ہلاکت میں روس کسی بھی طرح ملوث ہے۔ الیگزینڈر لیتوینینکو کا جمعرات کو لندن کے ایک ہسپتال میں انتقال ہوگیا ہے۔ لیتوینینکو گزشتہ دنوں اس وقت عالمی توجہ کا مرکز بن گئے تھے جب ان کے بارے میں یہ خبریں آئیں کہ انہیں زہر دیا گیا ہے جس کے بعد ان کی حالت انتہائی خراب ہوگئی تھی۔ لیتوینینکو کی موت کا باعث بننے والے زہر کا طبی ماہرین کو پتہ لگانے میں شدید مشکالات پیش آ رہی تھیں اور ابتدا میں یہ خدشہ ظاہر کیا گیا تھا کہ یہ تابکاری یا بھاری دھات سے زہرخوانی کا نتیجہ ہو سکتی ہے۔ تاہم جمعہ کو برطانوی ہیلتھ پروٹیکشن ایجنسی سے تعلق رکھنے والی ایک طبی ٹیم کے رکن ڈاکٹر راجر کوس نے بتایا کہ ان کے ادارے کو پولیس ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ لیتوینینکو کے پیشاب میں تعابکاری اثرات ملے ہیں جو غالباً پولونیم دو سو دس سے پیدا ہوئے ہیں جو انتہائی تیز تعابکار مادہ ہے اور یہ اگر خوراک یا سانس کے ساتھ معدے میں چلا جائے تو یہ پورے جسم میں سرعت کے ساتھ پھیل جاتا ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ جو ڈاکٹر اور طبی عملہ لیتوینینکو کے علاج پر معمور تھا ان کے تعابکاری سے متاثر ہونے کے امکانات بہت کم ہیں۔ ڈاکٹر کوس نے کہا کہ ہسپتال کے علاوہ اور وہ شوسی بار کا بھی جائزہ لے رہے ہیں جہاں لیتوینینکو شوسی مچھلی کھانے کے بعد علیل ہو گئے تھے۔ لیتوینینکو، روسی صدر پوتین کے شدید مخالف تھے اور ان کی نجی زندگی کے بارے میں کئی الزامات لگا چکے تھے۔ روسی حکام نے زہر دیئے جانے کی کسی کوشش میں ملوث ہونے کی تردید کی ہے۔ مسٹر لیتوینینکو سن دو ہزار میں برطانیہ آ گئے تھے اور انہیں روس میں ظلم و تشدد کے خطرے کے پیش نظر یہاں پر پناہ کی درخواست کی تھی۔ انہیں پہلے تو برطانیہ میں پناہ دی گئی اور بعد میں انہوں نے برطانوی شہریت اختیار کر لی تھی۔ | اسی بارے میں جاسوس کو زہر سے مارنے کی کوشش19 November, 2006 | آس پاس اینا پولیکووسکایا : آخری مضون شائع ہوگیا 12 October, 2006 | آس پاس روس میں بے قابو ہوتا نسلی امتیاز04 May, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||