اینا پولیکووسکایا : آخری مضون شائع ہوگیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
روسی خاتون صحافی اینا پولیکووسکایا کی موت کے بعد ان کا آخری مضمون شائع ہو گیا ہے۔انہیں ہفتہ کے روز گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔ روسی اخبار ’نووایا گزیٹا‘ میں شائع ہونے والے اس ادھورے مضمون میں اینا پولیکووسکایا نے عینی شاہدین کے حوالے سے روس نواز چیچن سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں ان افراد پر تشدد کی تفصیلات لکھی ہیں جنہیں دہشتگرد قرار دیا جاتا ہے۔ مضمون کے علاوہ اخبار نے اپنی خصوصی اشاعت میں کچھ زخمی افراد کی تصاویر بھی دیں ہیں۔ یہ تصاویر بھی اینا پولیکووسکایا نے حاصل کی تھیں اور ان کا کہنا تھا کہ یہ وہ لوگ ہیں جنہیں تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ اینا کے ساتھ کام کرنے والے زیادہ تر افراد کا کہنا ہے کہ انہیں یقین ہے کہ انہیں روس اور روس نواز چیچن فورسز کی پرتشدد کارروائیوں کو منظر عام پر لانے کی سزا کے طور پر گولی مار دی گی ہے۔ واضح رہے کہ اینا پولیکووسکایا روس کے صدر ولادامئر پوٹن اور روس نواز چیچن لیڈر رمضان قدیروف، دونوں پر کھلی تنقید کرتی رہی ہیں۔ | اسی بارے میں چیچن باغی رہنما بسایف’ہلاک‘10 July, 2006 | آس پاس صحافیوں پر بش انتظامیہ کی تنقید28 June, 2006 | آس پاس الجزیرہ کے صحافی پر فرد جرم28 April, 2006 | آس پاس ’عراق میں 86 صحافی ہلاک ہوئے‘20 March, 2006 | آس پاس بیجنگ نیوز کے صحافیوں کا احتجاج31 December, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||