روسی صحافی کے قاتل کی تلاش | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
روس کی نامور صحافی کے قتل کی تفتیشی ٹیم نے ان شبہات کا اظہار کیا ہے کہ ان کے قتل کا تعلق ان کی صحافتی سرگرمیوں سے ہو سکتا ہے۔ اینا پولیکووسکایا نامی صحافی، ہفتے کو اپنے اپارٹمنٹ بلاک کی لِفٹ میں مردہ حالت میں ملی تھیں اور انہیں گولی مار کر ہلاک کیا گیا تھا۔ وہ تحقیقاتی صحافت سے وابستہ تھیں۔ عمارت میں نصب سی سی ٹی وی کی فلم میں ایک شخص، ان کے قتل سے کچھ دیر پہلے ان کے پیچھے ہی عمارت میں داخل ہوتے ہوئے نظر آیا ہے۔ اس شخص نے سر پر ٹوپی پہن رکھی ہے اور تاہم اس کا چہرہ واضح طور پر نظر نہیں آیا۔ اڑتالیس سالہ اینا، دو بچوں کی ماں تھیں اور وہ روسی حکومت کی چیچنیا میں سرگرمیوں کے سخت ناقدین میں سے تھیں۔ تفتیشی نائب افسر یاشیزلوو روزنسکی کے مطابق وہ اس شبے کو نظرانداز نہیں کر رہے ہیں کہ اینا کے قتل کا تعلق ان کی سماجی یا پیشہ وارانہ زندگی سے ہو سکتا ہے۔ اینا پولیکووسکایا، نووایا گزیٹا، نامی اخبار کے لئے کام کرتی تھیں۔ اس اخبار نے اپنے صفحۂ اول پر دعویٰ کیا ہے کہ اینا کو ان کی چیچنیا کے بارے میں رپورٹنگ کی وجہ سے قتل کیا گیا ہے۔ روسی میڈیا میں پولیس ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا جا رہا ہے کہ اینا کو تین گولیاں جسم میں، جبکہ ایک گولی سر میں لگی ہے۔ ان کی نعش کے پاس سے ایک پستول اور چند گولیاں بھی ملی ہیں۔ اینا پولیکووسکایا، چیچنیا میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے خلاف اکثر لکھتی تھیں اور نووایا گزیٹا اخبار میں ان کی آخری تحریر میں ماسکو کے حمایتی ملیشیا پر تنقید کی گئی تھی۔ اخبار کے ایڈیٹر وتالی یراشیوسکی کے مطابق، چیچنیا میں تشدد کے حوالے سے اینا کی ایک اور تحریر عنقریب چھپنے والی تھی۔ اینا کو ماضی میں ’جان سے مار دینے‘ کی دھمکیاں کئی بار ملی تھیں۔ دو ہزار چار بیسلان سکول کے واقعے سے رپورٹنگ کے بعد واپسی پر انہیں فوڈ پوائزننگ ہو گئی جس کے بارے میں بیشتر لوگوں کا کہنا تھا کہ انہیں زہر دے کر مارنے کی کوشش کی گئی ہے۔
دو ہزار ایک میں بھی اینا کو آسٹریا کہ دارالحکومت ویانا میں منتقل ہونا پڑا تھا کیونکہ انہیں ایک دھمکی آمیز ای میل موصول ہوئی تھی۔ اس ای میل میں کہا گیا تھا کہ ایک روسی پولیس افسر کے مظالم کے بارے میں لکھنے پر وہ پولیس افسر ان سے اپنا انتقام ضرور لے گا۔ اینا پولیکووسکایا، کو روس سمیت دنیا بھر میں خراجِ عقیدت پیش کیا گیا ہے۔ سوابق سوویت صدر، میخیل گورباچوف نے ان کے قتل بدترین جرم اور روس میں میں خودمختار جمہوری صحافت میں بڑا نقصان قرار دیا ہے۔ امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے مطابق روسی صحافی کے قتل پر امریکی عوام کو دکھ پہنچا ہے۔ انسانی حقوق کے ادارے ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رکن، نیکولا ڈک ورتھ نے بھی اینا کی موت پر صدمے کا اظہار کرتے ہوئے ان کے قتل کی مفصل تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ چند روسی مبصرین کے بقول، اینا پولیکووسکایا کے قتل کی تحقیقات سے مثبت نتائج سامنے نہیں آئیں گے کیونکہ اس سے پہلے بھی روس میں سیاسی بنیادوں پر کئی قتل ہو چکے ہیں لیکن ان مجرموں کو گرفتار نہیں کیا جا سکا۔ | اسی بارے میں صحافیوں پر بش انتظامیہ کی تنقید28 June, 2006 | آس پاس روس میں بے قابو ہوتا نسلی امتیاز04 May, 2006 | آس پاس ’عراق میں 86 صحافی ہلاک ہوئے‘20 March, 2006 | آس پاس صحافیوں کے لیے بہت برا سال11 December, 2004 | آس پاس چیچن رہنما نے ذمہ داری قبول کی17 September, 2004 | آس پاس پیوتن کے ’حریف‘ کے دفاتر پر چھاپے03 July, 2004 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||