پیوتن کے ’حریف‘ کے دفاتر پر چھاپے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پولیس نے ماسکو میں مشہور روسی تیل کمپنی ’یوکوس‘ کے دفاتر پر چھاپے مارے ہیں۔ یوکوس کے ترجمان الیگزنڈر شادرین نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے افسران عمارت پر قبضہ کرنے کے لیے آئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس بہت سے کمپیوٹر سرور اٹھا لے گئی ہے جس کی وجہ سے تیل کی پیداوار رک بھی سکتی ہے۔ سادہ کپڑوں میں ملبوس درجنوں افسران نے یوکوس کے دفاتر کی تلاشی لی۔ پولیس کی ایک بڑی تعداد دفتر کے باہر موجود تھی۔ روس کے پراسیکیوٹر جنرل نے تصدیق کی ہے کہ دفتر پر چھاپہ ٹیکس کے گھپلوں کے سلسلے میں تھا۔ کچھ ایسی حبریں بھی آرہی ہیں کہ دفاتر سیل کیے جا رہے ہیں۔ کمپنی کے سب سے بڑے حصّہ دار میخائل کھودورکوفسکی پر ٹیکس چوری اور فراڈ کے الزامات میں مقدمہ چلایا جا رہا ہے۔ مقدمے کی سماعت بارہ جولائی کو ہے۔ چالیس سالہ کھودورکوفسکی کی’ یوکوس‘ روس کی سب سے بڑی تیل کمپنی ہے جس کی سالانہ آمدنی آٹھ ارب ڈالر سے زائد ہے۔ انہیں پچھلے سال گرفتار کیا گیا تھا۔ ترجمان کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ کمپنی کے کارندے حکومت کی کارروائی کی مزاحمت نہیں کریں گے لیکن تنبیہہ کی کہ اس قدم سے تیل کی پیداوار بہت جلد رک سکتی ہے۔ چھاپے ایسے وقت پر مارے گئے ہیں جب کمپنی نے تنبیہہ کی تھی کہ حکومت کے کمپنی کے اکاؤنٹ بند کرنے کی وجہ سے کمپنی تباہی کے دھانے پر ہے۔ یوکوس کا کہنا ہے اکاؤنٹ بند ہونے کی وجہ سے کمپنی ٹیکس ادا کرنے کے لیے اپنے اثاثے فروخت نہیں کر سکتی۔ ماسکو کی ایک عدالت نے ٹیکس ادا کرنے کے لیے کمپنی کو بدھ تک کا وقت دیا ہے۔ نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ میخائل کھودورکوفسکی قانونی مسائل ان کے سیاسی خواہشات کی وجہ سے پیدا ہوئے ہیں۔ کھودورکوفسکی ان سیاسی پارٹیوں کی مالی امداد کرتے رہے ہیں جو روس کے صدر ولادی میر پیوٹن کے مخالف ہیں۔ پیوٹن کا کہنا ہے کہ انہیں یوکوس میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ لیکن زیادہ تر مبصرین کا خیال ہے کہ حکومت چاہتی ہے کہ مالکان کمپنی چھوڑ دیں۔ کھودورکوفسکی کے علاوہ ان کے قریبی ساتھی پلاٹون لیبدیو بھی گرفتار ہیں اور ان پر بھی مقدمہ چل رہا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||