BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 27 October, 2003, 14:25 GMT 19:25 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
روس اور امریکہ کے درمیان نیا تنازع
کھودورکوفسکی
دولت مند ترین روسی کھودورکوفسکی

یوں محسوس ہوتا ہے کہ روس کے دولت مند ترین صنعتکار کی گرفتاری روس کا ایک داخلی معاملہ رہنے کی بجائے امریکہ اور روس کے درمیان تنازعہ بننے والی ہے۔

ماسکو میں امریکہ کے سفیر الیگزنڈر ورشبو نے تیل کے سب سے بڑے صنعتکار میخائیل کھودورکوفسکی کی گرفتاری پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ گرفتاری روس میں بیرونی سرمایہ کاری میں بے اعتمادی پیدا کر سکتی ہے۔

ورشبو کا کہنا ہے ’ واشنگٹن کو کھودورکوفسکی کے ادارے یوکوس اور حکومت کے درمیان جاری کشیدگی پر تشویش ہے‘۔

امریکی سفیر نے مزید واضح کیا ’ میرا خیال ہے کہ ان حالیہ واقعات کے بعد روس میں کام کرنے والے غیر ملکی اداروں اور ممکنہ سرمایہ کاروں میں شبہات پیدا ہوں گے اور بے اعتمادی بڑھے گی‘۔

اس کے علاوہ روسی تاجروں نے بھی کھودورکوفسکی کی گرفتاری پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے روسی صدر ولادیمیر پوتین سے ملاقات اور کھودورکوفسکی کی گرفتاری پر بات چیت کی درخواست کی تھی جسے روسی صدر نے مسترد کردیا۔

روسی صدر پوتین نے غیر مصالحانہ لہجے میں صاف صاف کہہ دیا ’ اس سلسلے میں کوئی ملاقات ہوگی اور نہ ہی قانون کا نفاذ کرنے والے اداروں کے کردار پر کوئی سودے بازی‘۔

روس میں گورباچوف کے ’ کشادگی اور تعمیرنو‘ کے تصورات سامنے آنے کے بعد جو تبدیلیاں آئی ہیں ان کے نتیجے میں روس میں نجی شعبے نے بڑی تیزی سے ایک بالا دست اور بااختیار طبقے کی حیثیت اختیار کی ہے اور کھودورکوفسکی ان گنے چنے لوگوں میں سر فہرست ہیں جو مختصر ترین مدت میں کھرب پتی بنے ہیں اور اب ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ سیاسی اثرنفوذ حاصل کرنے کی کوششیں بھی کر رہے ہیں۔

کھودورکوفسکی کو گرفتاری سے پہلے دو بار تفتیش کے لیے بلایا جا چکا ہے اور اس گرفتاری سے پہلے بھی انہیں تفتیش کے لیے پہنچنے کا نوٹس جاری کیا گیا تھا جس کی تعمیل نہیں ہو سکی۔

کھودورکوفسکی کے ادارے کا کہنا ہے کہ اس نے تفتیشی ادارے کو اطلاع دے دی تھی کے مسٹر کھودورکوفسکی کاروباری سلسلے میں غیر موجود ہونے کی وجہ سے تفتیش کے لیے جاری کیے جانے والے سمن کی تعمیل نہیں کر سکتے

چالیس سالہ کھودورکوفسکی روس میں تیل کے سب سے بڑے ادارے ’ یوکوس‘ کے مالک ہیں اور ان کی سالانہ آمدنی آٹھ ارب ڈالر سے زائد ہے۔

ان پر الزام ہے کہ انہوں نے انیس سو نوے میں شروع ہونے والی نجکاری کے بعد سے اب تک ٹیکس چوری اور دوسرے معاملات میں حکومت سے اربوں ڈالر کی دھوکہ دہی کی۔

تاہم کھودورکوفسکی کا کہنا ہے کہ وہ صدر پوتین سے سیاسی اختلافات رکھتے ہیں وہ ذہنی طور پر زیادہ آزادی پر یقین رکھنے والی ان دو سیاسی جماعتوں سے زیادہ قریب ہیں جو صدر پوتین کی مخالف ہیں اور وہ ان کی مالی مدد بھی کرتے ہیں۔

کھودورکوفسکی کے ادارے کے دو سرکردہ افراد کو پہلے ہی گرفتار کیا جا چکا ہے اور ان کا تعلق ادارے کے مالیاتی امور اور ان کی آڈیٹنگ سے ہے۔ ان کے خلاف باقاعدہ مقدمہ بھی شروع ہونے والا ہے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد