روسی جاسوس: دوست بھی متاثر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
روسی جاسوس الیگزینڈر لیتوینینکو کے ایک اطالوی دوست ماریو سکیرامیلا کے جسم میں وہی مادہ پایا گیا ہے جو روسی جاسوس کے جسم سے ملا تھا اس لیے ڈاکٹروں کو ماریو سکیرامیلا کے مزید کچھ ٹیسٹ کرنا ہوں گے۔ ماریو سکیرامیلا پولونیم -210 نامی تابکاری سے فی الحال محفوظ ہیں مگر ان کے جسم میں پائے جانے والی مقدار اتنی ضرور ہے جو آئندہ کسی بھی خطرے کا باعث ہو سکتی ہے۔ روسی جاسوس کی بیوی مرینا کے جسم میں بھی اس مادے کی کچھ مقدار پائی گئی ہے مگر وہ بیمار نہیں ہیں۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سے عوام کو کوئی خطرہ لاحق نہیں ہے۔ ہیلتھ پروٹیکشن ایجنسی کے چیف ایگزیکٹو پیٹ ٹروپ نے عوامی جگہوں پر تابکاری کے اثرات پائے جانے پر اپنی رائے دیتے ہوئے کہا کہ جب بھی کسی عوامی جگہ پر تابکاری کے اثرات ملتے ہیں تو ہم فوراً عوام کو درپیش صحت سے متعلق خطرات کا جائزہ لیتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ لوگوں کو مطمئن ہونا چاہیے کہ ہم کسی ایسی جگہ کو لوگوں کے لیے نہیں کھولیں گے جس کے بارے میں ہم کوئی بھی تشویش رکھتے ہیں۔ ایجنسی کے مطابق الیگزینڈر لیتوینینکو کے جسم سے ملنے والے پولونیم-210 کی مقدار اتنی نہیں تھی کہ وہ کم مدت میں کسی بیماری کا باعث بنتی اور زیادہ مدت بعد اس سے بیماری کے خطرات بہت کم تھے۔ سکیرامیلا روسی حکومت کے تنقید کاروں میں سے تھے اور الیگزینڈر سے ان کی ملاقات یکم نومبر کو وسطی لندن کے ایک سوشی ریسٹورینٹ میں ہوئی تھی۔ اسی دن یہ سابق روسی جاسوس بیمار ہو گئے تھے۔ سکیرامیلا کو لندن کے ایک یونیورسٹی کالج ہسپتال میں داخل کیا گیا ہے جہاں اس ہفتے کے اختتام پر ان کے مزید ٹیسٹ ہو گے۔یونیورسٹی کالج ہسپتال کے ایک ڈاکٹر کیتھ کا کہنا ہے کہ سکیرامیلا کے جسم میں پائے جانے والی پلونیم 210 کی مقدار الیگزینڈر کے جسم سے کہیں کم ہے۔ ڈاکٹر کیتھ نے یہ بھی کہا کہ سکیرامیلا کے جسم میں تابکاری کے زہر کی علامات نہیں ملیں۔ تئیس نومبر کو وفات پانے والے روسی جاسوس کا پوسٹ مارٹم جمعے کے روز مکمل ہو گیا۔ پوسٹ مارٹم کرنے والوں نے تابکاری کے اثرات سے بچنے کے لیے خاص لباس پہن رکھے تھے۔ پوسٹ مارٹم کی رپورٹ کئی دنوں تک منظر عام پر نہیں آ سکے گی۔ سکیرامیلا ، کے جی بی کے متعلق ایک اطالوی پارلیمانی انکوائری میں شامل ہیں اور ایک ای میل میں انہیں دھمکایا گیا ہے جس پر وہ خاصے فکر مند ہیں۔ ای میل میں الیگزینڈر اور ایک اطالوی سینیٹر پاؤلو گزانتی کو مارنے کی دھمکی بھی دی گئی ہے۔ گزانتی اپنی جان بچانے کی فکر میں ہیں اور اطالوی انتظامیہ سے درخواست کر رہے ہیں کہ انھیں چیک کیا جائے کہ کہیں انھیں زہر تو نہیں دیا جا رہا۔ الیگزینڈر کے ساتھیوں کا کہنا ہے کہ انہیں پیوٹن حکومت پر تنقید کرنے کی وجہ سے مار دیا گیا ہے۔ تاہم کریملن نے کسی بھی طرح سے اس معاملے کی ذمہ داری لینے سے انکار کیا ہے۔ روسی وزیر خارجہ سرجائی لاوروو کا کہنا ہے کہ ان کی حکومت اس سلسلے میں برطانوی حکومت کے ہر سوال کا جواب دینے کو تیار ہے مگر انھوں نے کوئی سوال اٹھایا ہی نہیں ہے۔ روسی وزیر خارجہ نے ایک نیوز کانفرنس میں کہا’ گیند اب برطانوی کورٹ میں ہے۔ جب یہ سوالات باضابطہ طریقے سے ہمیں بھیجے جائیں گے تو ہم ان کے باضابطہ جواب ہی دیں گے‘۔ برٹش ائر ویز ان تینتیس ہزار لوگوں سے رابطے کی کوشش کر رہی جو اس جہاز میں سفر کر رہے تھے جس میں تابکاری کے اثرات پائے گئے تھے۔ | اسی بارے میں امریکہ: جاسوسی کی اجازت پرطوفان 16 December, 2005 | صفحۂ اول پرائیویٹ کالز کی جاسوسی کا اعتراف 18 December, 2005 | آس پاس وزیرستان: جاسوسی کے الزام میں ہلاک09 September, 2006 | پاکستان ’جاسوسی‘ کے شبہے میں قتل28 September, 2006 | پاکستان شمالی کوریا: امریکی ناکام ہوگئے09 October, 2006 | آس پاس لندن: سابق روسی جاسوس چل بسے24 November, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||