برطانیہ نے روسی سفارتکار نکال دیے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانیہ کے وزیرِ اعظم گورڈن براؤن نے کہا ہے کہ برطانیہ چار روسی سفارتکاروں کو ملک سے نکل جانے کا حکم دینے پر کوئی ’معافی‘ نہیں مانگے گا۔ برطانیہ نے سفارتکاروں کو ملک سے نکل جانے کا حکم اس وقت دیا ہے جب روس نے گزشتہ برس لندن میں قتل کیے جانے والے الیگزینڈر لیتوینینکو کے قتل میں مطلوب سابق کے جی بی کے ایجنٹ کو برطانیہ کے حوالے کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ وزیرِ اعظم گوورڈن براؤن نے کہا کیونکہ ’کوئی تعاون نظر نہیں آ رہا، اس لیے کارروائی کرنا ضروری تھا۔‘ تاہم گورڈن براؤن نے کہا کہ برطانیہ روس سے اچھے تعلقات چاہتا ہے۔
برطانیہ سے سفارتکاروں کو نکالے جانے کے ردِ عمل میں روس نے کہا ہے کہ یہ فیصلہ اخلاقی اصولوں کے منافی ہے اور ساتھ ساتھ خبردار کیا ہے کہ برطانیہ کے لیے اس کے نتائج خطرناک ہو سکتے ہیں۔ کے جی بی کے سابق ایجنٹ الیگزینڈر لیتوینینکو کو نومبر 2006 میں تابکاری مادے پولونیم۔210 کے ذریعے ہلاک کیا گیا تھا۔ ماہرین کے مطابق پولونیم۔210 ایک انتہائی تیز تابکاری مادہ ہے اور اگر یہ خوراک یا سانس کے ذریعے انسانی معدے میں چلا جائے تو یہ پورے جسم میں سرعت کے ساتھ پھیل جاتا ہے۔ لیتوینینکو کے قتل میں ملوث ہونے کا شبہ کے جی بی کے ایک سابق ایجنٹ ایندرے لگووئے پر کیا جا رہا ہے اور ماسکو نے اس کو برطانیہ کے حوالے کرنے سے انکار کیا ہے۔ برطانوی وزارتِ خارجہ نے نکالے جانے والے روسی سفارتکاروں کے نام جاری نہیں کیے ہیں لیکن بی بی سی کو معلوم ہوا ہے کہ یہ سب انٹیلیجنس کے اہلکار ہیں۔ | اسی بارے میں ’قتل میں روس کا ہاتھ ہو سکتا ہے‘10 December, 2006 | آس پاس روسی جاسوس: دوست بھی متاثر02 December, 2006 | آس پاس لندن: سابق روسی جاسوس چل بسے24 November, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||