’قتل میں روس کا ہاتھ ہو سکتا ہے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
روس کے سابق جاسوس الیگزینڈر لیتوینینکو کی بیوہ نے الزام لگایا ہے کہ ان کے شوہر کے قتل کے پیچھے روس کا ہاتھ ہو سکتا ہے۔ 44 سالہ مرینہ لیتوینینکو نے برطانوی اخبار ’دی میل‘ کو ایک انٹرویو میں کیا ہے ’ظاہر ہے کہ روس کے صدر پیوتن اس قتل میں براہ راست تو ملوث نہیں ہیں، بالکل نہیں‘۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ صدر پیوتن نے ان کے شوہر کے ساتھ روس میں جو کیا اس کی روشنی میں ان کا ایک برطانوی شخص کو برطانیہ میں قتل کروانا ممکن ہے۔ میٹروپولیٹن پولیس کے افسران کو مسٹر لیتوینینکو کے جسم میں تابکاری کے اثرات کا جائزہ لینے کے لیے کیے جانے والے ٹیسٹوں کے نتائج مثبت ملے ہیں۔ یہ اثرات پولونیم دو سو دس سے پیدا ہوئے ہیں جو انتہائی تیز تابکاری مادہ ہے اور اگر یہ خوراک یا سانس کے ذریعے انسانی معدے میں چلا جائے تو یہ پورے جسم میں سرعت کے ساتھ پھیل جاتا ہے۔ مسز لیتوینینکو کا کہنا تھا کہ انہیں یقین ہے کہ برطانوی پولیس ان کے شوہر کے قاتلوں کا سراغ لگا لے گی مگر ان کے شوہر کے قتل کی تفتیش میں روس کی مدد نہیں کرےگی۔ انہوں نے اخبار کو بتایا کہ روسی حکام نے ابھی تک ان سے رابطہ تو نہیں کیا ہے تاہم ان کا کہنا تھا کہ ان کا خیال نہیں کہ وہ روسی حکام کی تفتیشی کارروائی میں ان کا کوئی ساتھ دے سکتی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ اس بات پر یقین نہیں کر سکتیں کہ روسی حکام ان سے سچ بولیں گے اور نہ ہی انہیں یقین ہے کہ وہ حاصل ہونے والے ثبوتوں کو مناسب طور پر استعمال کریں گے۔ مسٹر الیگزینڈر لیتوینینکو 23 نومبر کو لندن کے ایک ہسپتال میں انتقال کر گئے تھے ان کی موت کے بارے میں کہا جا رہا تھا کہ ان کی موت زہر کے باعث ہوئی ہے۔ میٹرو پولیٹن پولیس کا کہنا ہے کہ مسٹرلیتوینینکو کے جسم سے حاصل نمونوں کی تحقیق میں شامل 26 میں سے دو پولیس اہلکاروں میں بھی پولونیم دو سو دس نامی تابکاری مادے کے ذرات پائے گئے ہیں تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ ان کی مقدار بہت کم ہے اور یہ اہلکار ماہرین صحت کی نگرانی میں ہیں۔ مسز لیتوینینکو نے بتایا کہ ان کے شوہر کے آخری الفاظ یہی تھے کہ وہ ان سے بہت پیار کرتے ہیں۔ انہیں اور ان کے شوہر جنہیں خاندان والے ’ساشہ‘ کے نام سے پکارتے تھے، کو بتایا گیا تھا کہ وہ جلد صحت یاب ہو جائیں گے۔ یہاں تک کہ آخری دن اور اس سے ایک دن قبل جب ان کے شوہر بے ہوش تھے تو مسز لیتوینینکو کا یہی خیال تھاکہ الیگزینڈر ٹھیک ہو جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے بارہ سالہ بیٹے کے لیے یہ وقت بہت مشکل تھا مگر اس نے بڑے حوصلے سے ان کی ڈھارس بندھائی۔ مسٹر الیگزینڈر لیتوینینکو کے دوستوں کا خیال ہے کہ انہیں زہر اس لیے دیا گیا کیونکہ وہ روس کی موجودہ حکومت کے مخالف تھے تاہم روس نے الیگزینڈر لیتوینینکو کے قتل کے معاملے میں ملوث ہونے سے انکار کر دیا ہے۔ روس کی خفیہ اجنسی نے بھی ایک بیان میں اس معاملے میں ملوث ہونے کے امکانات کو رد کردیا ہے۔ مسز لیتوینینکو کا کہنا تھا کہ اپنے شوہر کے کردار کے بارے میں اوٹ پٹانگ خبروں کی اشاعت نے انہیں بولنے پر مجبور کیا ہے۔ ان کے شوہر ایماندار اور ایک جاسوس کی نسبت جرم کے خلاف لڑنے والے انسان تھے۔ بی بی سی ون بریک فاسٹ اے ایم کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے مسٹر الیگزینڈر لیتوینینکو کے دوست ولادمیر بوکوفسی کا کہنا تھا کہ یہ بات بالکل صاف ہے کہ زہر دیئے جانے کے پیچھے روس حکام کا ہاتھ ہے۔ مسٹر لیتوینینکو سن دو ہزار میں برطانیہ آ گئے تھے اور انہیں روس میں ظلم و تشدد کے خطرے کے پیش نظر یہاں پر پناہ کی درخواست کی تھی۔ انہیں پہلے تو برطانیہ میں پناہ دی گئی بعد میں انہوں نے برطانوی شہریت اختیار کر لی تھی۔ | اسی بارے میں جاسوس کو زہر سے مارنے کی کوشش19 November, 2006 | آس پاس لندن: سابق روسی جاسوس چل بسے24 November, 2006 | آس پاس روسی جاسوس: دوست بھی متاثر02 December, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||