ایران کے جوہری سفارتکار مستعفی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جوہری معالات پر مغربی ممالک کے ساتھ مذاکرات کرنے والے ایرنی سفارتکار علی لاریجانی نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دیدیا ہے۔ ایران میں ایک حکومتی ترجمان نے کہا کہ مسٹر لاریجانی کئی مرتبہ صدر محمود احمدی نژاد کو اپنا استعفے پیش کر چکے تھے اور آخر کار اس مرتبہ صدر نے ان کا استعفیٰ منظور کر لیا ہے۔ نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ علی لاریجانی اور صدر احمد نژاد کے درمیان اس بات پر اختلافات تھے کہ جوہری مذاکرات کو آگے کس سمت میں جانا چاہیے۔ ترجمان غلام حسین الہام نے بیان میں کہا کہ یورپی یونین کے خارجہ پالسی کے سربراہ جیوئر سولانا کے ساتھ منگل کو ہونے والے مذاکرات سے پہلے نائب وزیر خارجہ سعید جلیلی سبکدوش ہونے والے سفارتکار کی جگہ لے لیں گے۔ تہران سے بی بی سی کے نامہ نگار جون لین نے بتایا ہے کہ صدر احمدی نژاد کے سخت رویے کے برعکس مسٹر لاریجانی ایران کے یورینیم کی افزودگی کے پروگرام پر مغربی ممالک سے مزید مذاکرات کے حامی تھے۔ علی لاریجانی کے استعفے سے محض چند دن قبل روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے اپنے دورۂ تہران کے دوران ایران کے پرامن مقاصد کے لیے جوہری پروگرام جاری رکھنے کے حق کی مشروط حمایت کی ہے۔ ایران کے کچھ ذرائع ابلاغ کا دعویٰ ہے کہ روسی صدر نے ایران رہنما کو نئی تجاویز دی تھیں جن سے ایران اور مذاکرات میں شامل کچھ مغربی ممالک کے درمیان تعطل کو دور کیا جا سکتا ہے۔ تاہم صدر احمدی نژاد کے قریبی ذرائع ابلاغ نے اس سے انکار کیا ہے کہ صدر ولادیمیر پوتن کوئی نئی تجاویز لائے تھے۔ ہمارے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ علی لاریجانی کے استعفے سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ ایران کے جوہری معاملے پر صدر احمدی نژاد کے سخت مؤقف کو روحانی رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنائی کی حمایت حاصل ہے۔ اگرچہ علی لاریجانی بھی قدامت پسند خیالات رکھتے ہیں اور انہیں صدر احمدی نژاد نے ہی جوہری مذاکرات کی ذمہ داری سونپی تھی تاہم کہا جا رہا ہے کہ ان کی جگہ لینے والے سعید جلیلی صدر کے زیادہ قریب ہیں۔ اب تک روس نے ایران کو مزید پابندیوں سے بچایا ہوا ہے کیونکہ روس کے مطابق ایران کے پروگرام پر اقوام متحدہ کے جوہری امور کے نگراں ادارے آئی اے ای اے کو بات چیت کا موقع ملنا چاہیے تاکہ معاملات بغیر کسی تنازعے کے حل ہو سکیں۔ آئی اے ای اے ایران سے چند ایک معاملات پر وضاحتیں چاہتا ہے۔ اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کو مسٹر سولانا اور آئی اے ای اے کی رپورٹوں کا انتظار ہے جس کے بعد وہ فیصلہ کرے گی کہ ایران پر مزید سخت پابندیاں لگائی جائیں یا نہیں۔ | اسی بارے میں پوتن ’قتل کے منصوبے‘ سے آگاہ15 October, 2007 | آس پاس ایران پر روس اور امریکہ کا اتفاق02 July, 2007 | آس پاس سنگین نتائج بھگتنا ہوں گے: روس 17 July, 2007 | آس پاس امریکہ روسی تنظیموں کا حامی13 October, 2007 | آس پاس اصلاحات: بُش کی روس پر تنقید05 June, 2007 | آس پاس میونخ کانفرنس، توجہ ایران پر11 February, 2007 | آس پاس جوہری پروگرام پر ایران کا اصرار11 February, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||