BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 13 October, 2007, 11:52 GMT 16:52 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
امریکہ روسی تنظیموں کا حامی
میزائل شیلڈز کے امریکی منصوبے پر مذاکرات میں کوئی پیشرفت نہیں ہوئی
امریکہ کی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس نے روس میں انسانی حقوق کی تنظیموں اور کارکنوں کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔

امریکی وزیرِ خارجہ کے اس دورے پر روس زیادہ گرمجوشی نہیں دکھا رہا۔

کونڈولیزا رائس کا کہنا تھا کہ وہ روس میں جمہوریت اور انسانی حقوق کے بارے میں مقامی کارکنوں کی رائے جاننا چاہیں گی، تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ وہ قطعاً روس کے اندرونی معاملات میں دخل اندازی نہیں کرنا چاہتیں۔

واضح رہے کہ امریکہ کا الزام ہے کہ صدر ولادیمیر پوتن روس میں جمہوریت کا گلا دبا رہے ہیں اور انسانی حقوق کی پامالی کر رہے ہیں جبکہ روسی صدر ان الزامات سے انکار کرتے ہیں۔

انسانی حقوق کی ایک کارکن نے کونڈولیزا رائس کے ساتھ ملاقات کے بعد بی بی سی کو بتایا کہ وہ چاہتی ہیں کہ امریکہ روسی حکومت کی جمہوریت کُش پالیسیوں کی مذمت کرے۔ کارکن کا کہنا تھا کہ وہ امریکی وزیر خارجہ کو بتائیں گی کہ روس آہستہ آہستہ آمرانہ حکومت کی جانب بڑھ رہا ہے جہاں آئینی اور انسانی حقوق کو مسلسل پامال کیا جا رہا ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار رُوپرٹ ہیز کا کہنا ہے کہ کونڈولیزا رائس نے کارکنوں سے کہا کہ اگرچہ وہ اُن کی حمایت کرنا چاہتی ہیں لیکن وہ روس میں انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے محتاط رہیں۔ نامہ نگار کے مطابق امریکی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ وہ محض روس کی ملکی اور مقامی تنظیموں کی حمایت کرنا چاہتی ہیں۔

امریکہ کے وزیر دفاع رابرٹ گیٹس بھی کونڈولیزا رائس کے ساتھ سفر کر رہے ہیں اور توقع ہے کہ وزیر دفاع سنیچر کو روس کی فوجی سٹاف اکیڈمی کے طلباء سے بھی خطاب کریں گے۔

جمعہ کو مشرقی یورپ میں میزائل شیلڈ لگانے کے امریکی منصوبے پر دونوں ملکوں کے درمیان مذاکرات کھٹائی کا شکار ہوگئے تھے۔

امریکی وزراء ایک ایسے وقت میں روس کے دورے پر ہیں جب اگلے پانچ ماہ کے دوران ملک میں پالیمانی اور صدارتی انتخابات ہونا ہیں۔دو مرتبہ صدر رہنے کے بعد ولادیمیر پوتن کے لیے آئینی طور پر ضروری ہے کہ وہ اپنے عہدے سے سبکدوش ہو جائیں، لیکن وہ پہلے ہی عندیہ دے چکے ہیں کہ وہ شاید وزیراعظم بن جائیں اور پھر آئین کے مطابق سنہ دو ہزار بارہ میں تیسری مرتبہ صدر بن جائیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکی وزیر خارجہ کی روس میں غیر سرکاری تنظیموں سے ملاقاتیں روسی حکومت کے لیے پریشانی کا باعث ہو سکتی ہیں۔

ایک روسی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ گزشتہ ہفتے جب فرانس کے صدر نکولس سرکوزی روس کے دورے پر آئے تو صدر پوتن نے غیر سرکاری تنظیموں کے بارے میں اپنے تحفظات کا اظہار کیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ ’معاملات اس وقت بہت خراب ہو جاتے ہیں جب کچھ ممالک اپنی خارجہ پالیسی کے فروغ کے لیے اس قسم کی تنظیموں کو دوسرے ممالک کے خلاف اپنا آلۂ کار بنا لیتے ہیں۔‘

روس کو اس امریکی منصوبے پر بھی شدید غصہ ہے جس کے تحت امریکہ روس کے پڑوسی ممالک، پولینڈ اور جہوریہ چیک میں دفاعی میزائل نظام نصب کرنا چاہتا ہے۔ روسی صدر مسٹر پوتن امریکہ کی اس دلیل سے متاثر نہیں ہیں کہ امریکہ یہ نظام شمالی کوریا اور ایران جیسی ’بدمعاش‘ ریاستوں کی جانب سے ممکنہ میزائل حملوں سے دفاع کے لیے لگانا چاہتا ہے۔

جمعہ کو ہونے والی بات چیت میں امریکہ نے منصوبے پر عمدرآمد روکنے کی روسی درخواست کو مسترد کر دیا جبکہ روسی صدر نے دھمکی دی ہے کہ اگر امریکہ اپنے منصوبے کو عملی جامہ پہناتا ہے تو روس جوہری میزائلوں میں تخفیف کے معاہدے پر عملدرآمد روک دے گا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد