BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 05 June, 2007, 17:30 GMT 22:30 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اصلاحات: بُش کی روس پر تنقید
جارج بُش
نظام کا مقصد ایران اور شمالی کوریا کے ممکنہ حملے کے خطرے سے نمٹنا ہے: جارج بُش
ایک ایسے وقت میں جبکہ یورپ میں متنازعہ امریکی میزائل پروگرام کے بارے میں امریکہ اور روس کے مابین تناؤ پایا جاتا ہے، امریکی صدر جارج بش نے روس پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہاں جہموری اصلاحات کا عمل پٹری سے اتر چکا ہے۔

انہوں نے یہ بات جمہوریہ چیک پہنچنے پر کہی۔ وہ جی ایٹ اجلاس میں شرکت کے لیے براستہ جمہوریہ چیک رپبلک جا رہے ہیں۔ صدر بش نے دارالحکومت پراگ میں کہا کہ روس اور چین کے ساتھ امریکہ کے اچھے مراسم ہیں مگر بعض معاملات پر عدم اتفاق بھی موجود ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں ملکوں کے ساتھ تعلقات کی نوعیت پچیدہ ہے۔

صدر بش کا کہنا تھا کہ روس میں عوام کو اختیارات کی منتقلی کے جس عمل کا وعدہ کیا گیا تھا وہ جمہوری پیش رفت میں پیدا ہونے والی رکاوٹوں کی وجہ سے اپنی سمت کھو چکا ہے۔

اس سے قبل انہوں نے کہا تھا کہ روس کو مشرقی یورپ میں اس کے میزائلوں کے دفاعی نظام سے خطرہ محسوس نہیں کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ سرد جنگ ختم ہو چکی ہے اور روس امریکہ کا دشمن نہیں۔

روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے کہا تھا کہ اگر امریکہ مشرقی یورپ میں میزائل نصب کیے تو وہ بھی یورپ کے رخ پر ہتھیار نصب کرے گا۔ ان کے اس بیان کے بارے میں کہا گیا اس طرح کی باتیں سرد جنگ کے دنوں میں ہوتی تھیں۔

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ان کا ملک اپنی اقدار اور اصولوں پر سمجھوتہ کیے بغیر دونوں ملکوں سے تعلقات مستحکم کرنے کی کوشش کرتا رہے گا۔

دنیا میں جمہوریت کے عنوان سے تقریر کرتے ہوئے ان نے کہا کہ بلاروس، برما اور کیوبا جیسے ملکوں کو چاہیے کہ وہ بغیر کسی شرط کے سیاسی مخالفین کو رہا کریں۔

واشنگٹن نے نئی سرد جنگ کی باتوں کو مسترد کیا ہے لیکن ساتھ ہی کریملن کے لہجے کو گزرے ہوئے دور کی پریشان کن بازگشت قرار دیا ہے۔

چیک رپبلک میں اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صدر بُش نے کہا کہ نیا میزائل نظام خالصتاً دفاعی مقاصد کے لیے ہے اور اس کا نشانہ روس نہیں بلکہ ’حقیقی خطرات‘ ہیں۔

واشنگٹن پولینڈ میں میزائل شکن نظام اور چیک رپبلک میں راڈار قائم کرنا چاہتا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ اس نظام کا مقصد ’ایران اور شمالی کوریا سے ممکنہ حملے کے خطرے‘ سے نمٹنا ہے۔

صدر بُش نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ روس بھی اس نظام میں شامل ہو۔ صدر بُش اور صدر پوتن کی بدھ کے روز جرمنی میں جی ایٹ سربراہی اجلاس کے دوران ملاقات ہونے والی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد