BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 02 June, 2007, 09:19 GMT 14:19 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
امریکہ اور ایران: ایک سرد جنگ؟

گزشتہ ہفتے بغداد میں امریکی اور ایرانی سفارتوں نے برسوں بعد ملاقات کی
امریکہ اور ایران عراق کے معاملے پر مفاہمت کی کوشش میں تو ہیں لیکن کیا یہ دونوں ملک ایک نئی سرد جنگ میں بھی پھنس گئے ہیں؟

اٹھائیس مئی کو بغداد میں دونوں ملکوں کی ملاقات کو کئی تجزیہ نگار ایک پیش رفت سمجھتے ہیں۔ بغداد میں امریکی سفیر ریان کروکر نے اپنے ایرانی ہم منصب کے ساتھ ہونے والی چار گھنٹے کی بات چیت کو ’مثبت‘ قرار دیا ہے۔

لیکن اگر حالات پر غور کریں تو کئی معاملات پر دونوں ملکوں کے درمیان شدید اختلافات ہیں جو گہرے ہوتے جارہے ہیں۔

امریکہ ایران پر عراق میں امریکی افواج کی موجودگی کے خلاف کارروائیاں کرنے کا الزام لگاتا ہے جبکہ ایرانی حکام بش انتظامیہ پر ایران میں ’ویلویٹ انقلاب‘ اکسانےکی کوشش کا الزام لگاتا ہے۔

یہ صرف الفاظ کی جنگ نہیں ہے۔یہ ایک پراسرار جنگ ہے جس میں پس پردہ اور کھلم کھلا کارروائیاں، علاقائی سیاست اور لین دین ہورہی ہیں، اور بعض اوقات گن بوٹ ڈِپلومیسی کا بھی سہارا لیا جاتا ہے۔

صرف الفاظ کی جنگ نہیں
 یہ صرف الفاظ کی جنگ نہیں ہے۔یہ ایک پراسرار جنگ ہے جس میں پس پردہ اور کھلم کھلا کارروائیاں، علاقائی سیاست اور لین دین ہورہی ہیں، اور بعض اوقات گن بوٹ ڈِپلومیسی کا بھی سہارا لیا جاتا ہے۔
حال ہی میں ایران میں غیرملکی جاسوسی کا پتہ لگانے والے ادارے کے سربراہ نے ایران کے سات صوبوں میں جاسوسی کے نیٹ ورک افشا کرنے کے لیے اپنے اہلکاروں کی تعریف کی۔ ایرانی اہلکار نے جن کا نام روایتی طور پر ظاہر نہیں کیا جاتا ہے، جاسوسی کے نیٹ ورک کا تعلق ان ممالک سے بتایا جن کی افواج عراق میں ہیں، یعنی امریکہ اور برطانیہ۔

ایرانی اہلکار نے اشارتاً کہا کہ امریکہ اور برطانیہ ایران میں، بالخصوص اس کی سرحد پر واقع صوبوں میں، قبائلی اور نسلی تفریق کو ہوا دینے کی کوشش کررہے ہیں۔ یہ ایسے الزامات ہیں جن کو ثابت کرنا ویسے بھی ناممکن ہی ہوتا ہے۔

لیکن یہ بات واضح ہے کہ ایران پر امریکی دباؤ صرف اقوام متحدہ میں ایران کے ایٹمی تنازعے تک محدود نہیں ہے۔ امریکی دباؤ کی کچھ مثالیں حسب ذیل ہیں:

٭ ایران میں عوامی رائے متاثر کرنے کے لیے سافٹ پاور یعنی جمہوریت اور حقوق انسانی کے فروغ کے لیے کوششیں، ثقافتی تبادلے، ریڈیو، ٹیلی ویژن اور انٹرنیٹ پر نشریات وغیرہ کا استعمال۔

٭ اُن عرب ممالک کو ایران مخالف علاقائی اتحاد میں شامل کرنے کی کوششیں جو کہ کسی طاقت کا حصہ نہیں ہیں۔

٭عراق میں ایرانی اہلکاروں کی حراست جو امریکیوں کے مطابق عراق میں تشدد پھیلانے میں مصروف ہیں۔

٭ اطلاعات کے مطابق امریکہ ایران کے اندر خفیہ آپریشن بھی کررہا ہے۔

ایران کے خلاف کارروائیاں
 امریکی خبررساں ادارے اے بی سی نیوز نے اطلاع دی ہے کہ صدر بش نے سی آئی اے کو ایسے احکامات جاری کیے ہیں کہ وہ ایران کو غیرمستحکم بنانے کی کاررائیاں کرے۔ ان میں پروپیگنڈہ، ایرانی کرنسی اور بینکوں کی لین دین پر اثرانداز ہونے کی کارروائیاں شامل ہیں۔
امریکی خبررساں ادارے اے بی سی نیوز نے اطلاع دی ہے کہ صدر بش نے سی آئی اے کو ایسے احکامات جاری کیے ہیں کہ وہ ایران کو غیرمستحکم بنانے کی کاررائیاں کرے۔ ان میں پروپیگنڈہ، ایرانی کرنسی اور بینکوں کی لین دین پر اثرانداز ہونے کی کارروائیاں شامل ہیں۔

ایران بھی امریکی دباؤ کے خلاف مختلف اقدامات کررہا ہے۔

٭ ایرانی نژاد امریکیوں کی گرفتاریاں جن پر ایران جاسوسی کا الزام لگاتا ہے۔

٭ عرب ممالک سے تعلقات بہتر بنانے کی کوششیں، مثال کے طور پر مصر کے ساتھ سفارتی تعلقات کی بحالی۔

٭ خلیج اور عراق میں امریکی موجودگی کے خلاف آواز کو مضبوط کرنا جس میں ایران کو مہارت حاصل ہے۔

٭ عراق میں خفیہ نیٹ ورک بنانے اور برقرار رکھنے کی کوششیں جن کا استعمال امریکی مفادات اور افواج کے خلاف ہوسکے۔

اس پس منظر سے کیا یہ سمجھائے جائے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان بغداد مذاکرات ایک پیش رفت ہیں یا ان کے اختلافات گہرے ہوتے جارہے ہیں؟

اس سوال کے جواب میں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ واشنگٹن اور تہران میں طاقت کے کئی محور ہیں جن میں بعض سخت گیر موقف والے گروہ ہیں جبکہ کچھ ایسے بھی جو پرامن مقاصد کے لیے کام کرتے ہیں۔

امریکی انتظامیہ دونوں طرح کی پالیسیوں پر گامزن ہے۔ وہ ایران سے بات چیت کرنا چاہتی ہے لیکن ایک طاقت کی حیثیت سے۔ چونکہ عراق میں اس کی پریشانیاں پہلے سے ہی بڑھ چکی ہیں، اس لیے امریکی انتظامیہ ایران سے ایک درخواست گزار کی حیثیت سے رابطہ نہیں کرنا چاہتی۔

امریکیوں پر یہ بھی واضح ہے کہ ان کے لیے ایران کے معاملے میں فوجی طاقت کا استعمال پرکشش نہیں ہے۔ لہذا امریکہ کے لیے جو واحد راستہ بچ جاتا ہے وہ ایران کو روکنے کی کوششیں جن میں ہر طرح کی پالیسیاں اہم ہیں۔

سرد جنگ کے دوران یہ لائحۂ عمل کامیاب ثابت ہوا تھا۔ کیا ایران کے معاملے میں یہ کامیاب رہے گا؟

امریکہ کو ’پیشکش‘
’حزب اللہ کی مدد بند کرنے کی پیشکش کی‘
آیت اللہ العلظمی حسین علی ’ایٹمی پالیسی‘
آیت اللہ منتظری کی احمدی نژاد پر تنقید
شیعہ رہنما مقتدٰی الصدرمقتدٰی کی’روانگی‘
مہدی ملیشیا کے رہنما ’ایران چلے گئے‘
’ قذافی کا گلہ‘
جوہری پروگرام ختم کرنے کا معاوضہ نہیں ملا
ایرانی صدر محمد احمدی نژادصدر احمدی نژاد
سلامتی کونسل سے خطاب کی خواہش
احمدی نژاد’برطانوی اہلکار رہا‘
کیا یہ فیصلہ صرف صدر احمدی نژاد کا تھا؟
’مجرموں کا قتل جائز‘
ایرانی سپریم کورٹ نے مبینہ مجرم بری کر دیے
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد