امریکہ اور ایران: ایک سرد جنگ؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ اور ایران عراق کے معاملے پر مفاہمت کی کوشش میں تو ہیں لیکن کیا یہ دونوں ملک ایک نئی سرد جنگ میں بھی پھنس گئے ہیں؟ اٹھائیس مئی کو بغداد میں دونوں ملکوں کی ملاقات کو کئی تجزیہ نگار ایک پیش رفت سمجھتے ہیں۔ بغداد میں امریکی سفیر ریان کروکر نے اپنے ایرانی ہم منصب کے ساتھ ہونے والی چار گھنٹے کی بات چیت کو ’مثبت‘ قرار دیا ہے۔ لیکن اگر حالات پر غور کریں تو کئی معاملات پر دونوں ملکوں کے درمیان شدید اختلافات ہیں جو گہرے ہوتے جارہے ہیں۔ امریکہ ایران پر عراق میں امریکی افواج کی موجودگی کے خلاف کارروائیاں کرنے کا الزام لگاتا ہے جبکہ ایرانی حکام بش انتظامیہ پر ایران میں ’ویلویٹ انقلاب‘ اکسانےکی کوشش کا الزام لگاتا ہے۔ یہ صرف الفاظ کی جنگ نہیں ہے۔یہ ایک پراسرار جنگ ہے جس میں پس پردہ اور کھلم کھلا کارروائیاں، علاقائی سیاست اور لین دین ہورہی ہیں، اور بعض اوقات گن بوٹ ڈِپلومیسی کا بھی سہارا لیا جاتا ہے۔
ایرانی اہلکار نے اشارتاً کہا کہ امریکہ اور برطانیہ ایران میں، بالخصوص اس کی سرحد پر واقع صوبوں میں، قبائلی اور نسلی تفریق کو ہوا دینے کی کوشش کررہے ہیں۔ یہ ایسے الزامات ہیں جن کو ثابت کرنا ویسے بھی ناممکن ہی ہوتا ہے۔ لیکن یہ بات واضح ہے کہ ایران پر امریکی دباؤ صرف اقوام متحدہ میں ایران کے ایٹمی تنازعے تک محدود نہیں ہے۔ امریکی دباؤ کی کچھ مثالیں حسب ذیل ہیں: ٭ ایران میں عوامی رائے متاثر کرنے کے لیے سافٹ پاور یعنی جمہوریت اور حقوق انسانی کے فروغ کے لیے کوششیں، ثقافتی تبادلے، ریڈیو، ٹیلی ویژن اور انٹرنیٹ پر نشریات وغیرہ کا استعمال۔ ٭ اُن عرب ممالک کو ایران مخالف علاقائی اتحاد میں شامل کرنے کی کوششیں جو کہ کسی طاقت کا حصہ نہیں ہیں۔ ٭عراق میں ایرانی اہلکاروں کی حراست جو امریکیوں کے مطابق عراق میں تشدد پھیلانے میں مصروف ہیں۔ ٭ اطلاعات کے مطابق امریکہ ایران کے اندر خفیہ آپریشن بھی کررہا ہے۔
ایران بھی امریکی دباؤ کے خلاف مختلف اقدامات کررہا ہے۔ ٭ ایرانی نژاد امریکیوں کی گرفتاریاں جن پر ایران جاسوسی کا الزام لگاتا ہے۔ ٭ عرب ممالک سے تعلقات بہتر بنانے کی کوششیں، مثال کے طور پر مصر کے ساتھ سفارتی تعلقات کی بحالی۔ ٭ خلیج اور عراق میں امریکی موجودگی کے خلاف آواز کو مضبوط کرنا جس میں ایران کو مہارت حاصل ہے۔ ٭ عراق میں خفیہ نیٹ ورک بنانے اور برقرار رکھنے کی کوششیں جن کا استعمال امریکی مفادات اور افواج کے خلاف ہوسکے۔ اس پس منظر سے کیا یہ سمجھائے جائے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان بغداد مذاکرات ایک پیش رفت ہیں یا ان کے اختلافات گہرے ہوتے جارہے ہیں؟ اس سوال کے جواب میں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ واشنگٹن اور تہران میں طاقت کے کئی محور ہیں جن میں بعض سخت گیر موقف والے گروہ ہیں جبکہ کچھ ایسے بھی جو پرامن مقاصد کے لیے کام کرتے ہیں۔ امریکی انتظامیہ دونوں طرح کی پالیسیوں پر گامزن ہے۔ وہ ایران سے بات چیت کرنا چاہتی ہے لیکن ایک طاقت کی حیثیت سے۔ چونکہ عراق میں اس کی پریشانیاں پہلے سے ہی بڑھ چکی ہیں، اس لیے امریکی انتظامیہ ایران سے ایک درخواست گزار کی حیثیت سے رابطہ نہیں کرنا چاہتی۔ امریکیوں پر یہ بھی واضح ہے کہ ان کے لیے ایران کے معاملے میں فوجی طاقت کا استعمال پرکشش نہیں ہے۔ لہذا امریکہ کے لیے جو واحد راستہ بچ جاتا ہے وہ ایران کو روکنے کی کوششیں جن میں ہر طرح کی پالیسیاں اہم ہیں۔ سرد جنگ کے دوران یہ لائحۂ عمل کامیاب ثابت ہوا تھا۔ کیا ایران کے معاملے میں یہ کامیاب رہے گا؟ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||