’اخلاقی مجرموں کو مارنا جائز‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اطلاعات کے مطابق ایران میں سپریم کورٹ نے ایسے ملزمان کو جن پر بہیمانہ قتل کے الزامات تھے اس بنیاد پر بری کر دیا ہے کہ انہوں نے ایسے لوگوں کو قتل کیا تھا جو اخلاقی طور پر برے کاموں میں ملوث تھے۔ سماعت کے دوران ملزمان کا مؤقف تھا کہ ان کے خیال میں اسلام انہیں اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ وہ دو مرتبہ خبردار کرنے کے بعد ایسے شخص کو مار سکتے ہیں جو منشیات کے کاروبار یا زوجہ کے علاوہ بھی جنسی تعلقات رکھتا ہو۔ ہلاک کیے جانے والے لوگوں میں سے کچھ کو سنگسار کیا گیا تھا جبکہ دوسروں کی لاشیں صحرا میں پھینک دی گئی تھیں تا کہ انہیں جنگلی جانور کھا جائیں۔ قتل کیے جانے والے افراد کے وکلاء کا کہنا ہے کہ ایک ذیلی عدالت نے بری کیے جانے والے افراد کو مجرم قرار دیا تھا لیکن سپریم کورٹ نے ذیلی عدالت کے فیصلوں کو پانچ مرتبہ غلط قرار دیتے ہوئے تبدیل کر دیا۔ تہران میں بی بی سی کی نامہ نگار کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ سے مذکورہ افراد کی رہائی کے مبینہ فیصلے سے ایران میں قانون کے اطلاق کے بارے میں نئے سوال جنم لے سکتے ہیں۔ نامہ نگار کے مطابق یہ سوال ایک مرتبہ پھر سامنے آتا ہے کہ ان افراد پر کس قانون کا اطلاق ہوتا ہے جو قانون کو اپنے ہاتھ میں لیتے ہیں اور خود اسلامی قوانین نافذ کرنے کا ٹھیکہ اٹھائے ہوئے ہیں۔ گزشتہ ماہ بھی ایران میں کئی خواتین کو ایک انقلابی عدالت کے باہر مظاہرہ کرنے پر گرفتار کیا گیا تھا۔ یہ خواتین ان پانچ خواتین کے ساتھ یکجہتی کے لیے مظاہرہ کر رہی تھیں جنہیں گزشتہ سال جون میں کچھ قوانین کے خلاف احتجاج کرنے پر گرفتار کر لیا گیا تھا۔ ان خواتین کا خیال تھا کہ مذکورہ قوانین عورتوں کے خلاف تعصب پر مبنی ہیں۔ |
اسی بارے میں ایران: یورینیم کی صنعتی پیداوار09 April, 2007 | آس پاس مساوی حقوق اور ایرانی عورت 08 March, 2007 | آس پاس ایرانی خواتین کا بھوک ہڑتال کا اعلان07 March, 2007 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||