برما قرارداد، روس اور چین کو نامنظور | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
چین اور روس نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی طرف سے برما کی فوجی حکومت کے خلاف قرار داد کو نامنظور کر دیا ہے۔ اقوام متحدہ کی قرارداد کے مسودے میں برما کی فوجی حکمران پر زور دیا گیا تھا کہ وہ ملک میں سیاست پر عائد پابندیاں ختم کریں اور قید سیاستدانوں کو رہا کرے۔ روس اور چین کے سفیر کا موقف تھا کہ برما کی صورتحال سےعلاقے کی سلامتی پر کوئی اثر نہیں پڑ رہا ہے لہذا ملک کی سیاسی صورتحال پر غور کے لیے سلامتی کونسل صیح ادارہ نہیں ہے۔ سیکورٹی کونسل کے غیر مستقل رکن ، جنوبی افریقہ نے بھی روس اور چین کا ساتھ دیا ہے۔ امریکہ نے قرارداد منظور نہ کیے جانے پر مایوسی کا اظہار کیا ہے۔ برما میں فوج انیس سو باسٹھ سے ملک پر حکمرانی کر رہی ہے۔ اور آنگ سن سوچی کو ایک عشرے سے گھر میں قید کر رکھا ہے۔ | اسی بارے میں سوچی کی مدت نظر بندی میں اضافہ27 May, 2006 | آس پاس سوچی:قید میں ساٹھ کی ہوگئیں19 June, 2005 | آس پاس رنگون دھماکہ، گیارہ ہلاک07 May, 2005 | آس پاس برما میں پانچ ہزار مزید قیدی رہا02 January, 2005 | آس پاس برما: وزیراعظم کو برطرف کر دیا گیا19 October, 2004 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||