برما میں پانچ ہزار مزید قیدی رہا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برما کی فوجی حکومت نے پانچ ہزار چھ سو قیدیوں کو رہا کرنے کا اعلان کیا ہے۔البتہ فوجی حکومت نے اپوزیشن رہنما آنگ سن سوچی کو رہا نہیں کیا ہے۔ برما کےسرکاری ٹیلویژن پر کیے گئے ایک اعلان کے مطابق قیدیوں کی رہائی کا مقصد یوم آزادی کے موقع پر قومی ہم آہنگی کو اجاگر کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔ برما میں فوج انیس سو باسٹھ سے ملک پر حکمرانی کر رہی ہے۔ اکتوبر میں وزیر اعظم جنرل کھن نیونت کو ان کے عہدے کے ہٹائے جانے کے بعد اب تک بیس ہزار قیدیوں کو رہا کیا جا چکا ہے۔ فوجی حکام نے کہا ہے کہ ان قیدیوں کو رہا کر رہی ہے جن کو جنرل کھن نیونت کی حکومت نے غلط طور پر قید کر رکھا تھا۔ فوجی حکومت کا کہنا کہ جنرل کھن نیونت نے ملٹری انٹیلجنیس کو غلط طور پر استعمال کیا تھا۔ فوجی حکومت کا کہنا ہے کہ رہا کیے جانے والوں میں صرف ستر ایسے قیدی ہیں جن کو سیاسی قیدی کہا جا سکتا ہے ۔ نومبر 2004 میں فوجی حکمرانوں نے ایک اہم منحرف رہنما من کو نینگ کو رہا کیا تھا۔ من کو نینگ برما میں جمہوریت پسند تحریک میں نوبل انعام یافتہ آنگ سن سوچی کے بعد دوسرے نمبر پر آتے ہیں۔ من کو نینگ انیس سو اٹھاسی میں جمہوریت کی بحالی کے لیے طلباء کی تحریک کے رہنما تھے۔ گزشتہ پندرہ برس میں سے آنگ سن سوچی نے نو برس فوجی حکمرانوں کی قید میں گزارے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||