BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 06 September, 2003, 16:00 GMT 20:00 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سُوچی بھوک ہڑتال پر نہیں
آنگ سان سوچی
سوچی کو ’حفاظتی تحویل‘ میں رکھا گیا ہے

انسانی ہمدردی کی بین الاقوامی تنظیم ریڈ کراس نے امریکی دفترِ خارجہ کے دعووں کے برعکس کہا ہے کہ برما کی جمہوریت پسند محصور رہنما آنگ سان سوچی بھوک ہڑتال پر نہیں ہیں۔

سنیچر کے روز ریڈ کراس کے نمائندوں اور آنگ سان سوچی کے مابین ایک گھنٹہ طویل ملاقات کے بعد، رنگون میں موجود تنظیم کے رابطہ افسر نے بتایا کہ ’وہ صحت مند ہیں اور بھوک ہڑتال نہیں کر رہی ہیں‘۔

امریکی دفتر خارجہ نے گزشتہ ہفتے سوچی کی صحت پر تشویش کا اظہار کیا تھا کیونکہ اس کے بقول بعض معتبر اطلاعات کے مطابق سوچی نے اپنی تحویل کے خلاف احتجاجاً بھوک ہڑتال کر دی تھی۔

دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ برما کی حکومت سوچی کی صحت و سلامتی کی پوری طرح ذمہ دار ہے۔

برما کے وزیراعظم لیفٹننٹ جنرل خین نیونت

برما کی فوجی انتظامیہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ امریکی دعووں کا مقصد ’ برما میں ہونے والی حالیہ سیاسی پیش رفت سے توجہ ہٹانا ہے‘۔ امریکہ کی طرف سے یہ الزام، برما کی طرف سے بحالیِ جمہوریت کے لیے نئے نقشۂِ راہ کے اعلان کے ایک روز بعد عائد کیا گیا تھا۔ اس نقشۂِ راہ میں آئینی اصلاحات متعارف کرانے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔

تیس مئی برما کی حکومت اور سوچی کے حامیوں کے درمیان ہونے والے فسادات کے بعد سے آنگ سان سوچی کو ’حفاظتی تحویل‘ میں رکھا گیا۔

جن بین الاقوامی قوائد کے تحت ریڈ کراس کے نمائندوں نے سوچی سے ملاقات کی، ان قوانین کے تحت وہ ملاقات کی تفصیلات فراہم کرنے کے مجاز نہیں ہیں۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد