برما کے اہم سیاسی رہنما کی رہائی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برما کے فوجی حکمرانوں نے ایک اہم منحرف رہنما کو چار ہزار قیدیوں کے ساتھ رہا کر دیا ہے۔ من کو نینگ برما میں جمہوریت پسند تحریک میں نوبل انعام یافتہ آنگ سن سوچی کے بعد دوسرے نمبر پر آتے ہیں۔ من کو نینگ انیس سو اٹھاسی میں جمہوریت کی بحالی کے لیے طلباء کی تحریک کے رہنما تھے۔ برما میں فوج نے اس تحریک کو کچل دیا تھا۔انیس سو نواسی میں گرفتاری کے وقت من کو نینگ کی عمر چھبیس برس تھی۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کوفی عنان نے قیدیوں کی رہائی کا خیر مقدم کرتے ہوئے برما کے حکمرانوں سے تمام سیاسی قیدیوں کی رہائی کی اپیل کی ہے۔ رہائی کے بعد من کو نینگ نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’مجھے ایسے لگتا ہے جیسے میں خواب سے بیدار ہوا ہوں اور اپنی آنکھیں کھولنا شروع کی ہیں‘۔ بنکاک میں بی بی سی کے نامہ نگار کائلی مورس کے مطابق کہا جاتا ہے کہ گرفتاری کے وقت رنگون میں من کو نینگ کے حمایتیوں میں اٹھارہ ہم شکل موجود تھے لیکن وہ اس کی شناخت کو چھپا نہیں سکے تھے۔ اس وقت داراحکومت میں ایک تقریر میں من کو نینگ نے کہا تھا کہ ’اگر برما کے عوام ویسے ہی بنیادی حقوق حاصل کرنا چاہتے ہیں جو دوسرے ممالک کے عوام کو حاصل ہیں تو انہیں اتحاد ، تنظیم اور جرات کے ساتھ آمر حکمرانوں کے خلاف اٹھ کھڑا ہونا ہوگا‘۔ انیس سو نوے میں نیشنل لیگ فار ڈیموکرسی کے انتخابات میں بھاری کامیابی کے باوجود برما میں فوج انیس سو باسٹھ سے ملک پر حکمرانی کر رہی ہے۔ نیشنل لیگ کے ترجمان یو لیون نے کہا ہے کہ من کو نینگ کی رہائی ایک اہم پیش رفت ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جنتا سیاسی اصلاحات کے عمل میں حصہ لینا چاہتی ہے۔ لیکن اس نے کہا کہ اس کا یہ مطلب ہر گز یہ نہیں کہ اب آنگ سن سوچی کو بھی رہا کر دیا جائے گا۔ گزشتہ پندرہ برس میں سے سوچی نے نو برس فوجی حکمرانوں کی قید میں گزارے ہیں۔ نیشنل لیگ فار ڈیموکرسی کے بانی چوہتر سالہ ون تن کی رہائی بہت اہم قدم ہوگا لیکن ابھی تک ان کی رہائی کی تصدیق نہیں ہو سکی۔ رہا ہونے والے چار ہزار قیدیوں میں سے تیس سیاسی قیدی ہیں جب کہ تیرہ سو سیاسی قیدی اب بھی برما کی جیلوں میں ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||