BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 19 June, 2005, 03:36 GMT 08:36 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سوچی:قید میں ساٹھ کی ہوگئیں
آنگ سان سوچی
سوچی ملک میں نسلی منافرتیں ختم کر سکتی ہیں
’دی لیڈی‘ کہلائی جانے والی برما کی سیاسی رہنما آنگ سان سوچی ساٹھ سال کی ہو گئی ہیں۔ وہ اتوار کو اپنی سالگر تنہائی میں منائیں گی۔ ان کو ملنے والوں میں دو خدمت گار خواتین اور ایک ڈاکٹر ہیں جو ہفتے میں ایک بار ان کو دیکھنے آتے ہیں۔

آنگ سان سوچی گزشتہ تین سالوں سے نظر بند ہیں۔انہیں بجا طور پر دنیا کا سب سے جانا مانا سیاسی قیدی مانا جاتا ہے اور ان کی اس حیثیت کو ابھی کوئی خطرہ لاحق نہیں ہے۔ عالمی رہنماؤں کی طرف سے ان کی رہائی کی درخواستیں ان کی مشکلات کم نہیں کر سکیں۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کوفی عنان، امن کا نوبل انعام پانے والے ڈیسمنڈ ٹوٹو اور دالائی لاما نے آنگ سان سوچی کو سالگرہ کی مبارکباد بھیجی ہے اور ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔

آنگ سان سوچی نے اپنی زندگی کے گزشتہ سولہ میں سے نو سال قید تنہائی میں گزارے ہیں۔

ایسا نہیں معلوم ہوتا کہ برما کی فوجی حکومت میں شامل جرنیل سوچی کی رہائی کے لیے ان تازہ ترین درخواستوں پر دھیان دیں گے۔

یہ جرنیل جنوب مشرقی ایشیا کے اس ملک میں جمہوری تبدیلی کے لیے بیرونی دباؤ کو بدستور نظر انداز کر رہے ہیں۔

ویسے بھی برما میں اکتوبر دو ہزار چار میں وزیر اعظم کھن ینت کی اقتدار سے برطرفی اور ان کی اور ان کے ساتھ کام کرنے والے خفیہ اداروں کے اہلکاروں کی گرفتاری کے بعد واضح نہیں کہ ملک میں اصل اقتدار کس کے پاس ہے۔

آنگ سان سوچی نے آخری بار گرفتار ہونے سے پہلے ملک کا دورہ کیا تھا جس کے دوران ان کا زبردست استقبال کیا گیا۔

سوچی کے والد آنگ سان کو برطانوی سامراج کے دوران برما کو متحد کرنے کے لیے یاد کیا جاتاہے۔

سوچی کی انیس سو اٹھاسی میں برما واپسی پر امید ظاہر کی جا رہی تھی کہ وہ اپنے والد کا کارنامہ دہرائیں گی۔ سوچی کے پاس کبھی کوئی سیاسی عہدہ نہیں رہا لیکن ایسا معلوم ہوتا تھا کہ اپنی شہرت کے بل پر وہ نسلی بنیادوں پر تقسیم ملک کو متحد کر سکیں گی۔

رنگون کے موجودہ حکمرانوں کی نسلی گروہوں سے بات چیت میں عدم دلچسپی کو دیکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ سوچی کی ان گروہوں کو قریب لانے کی صلاحیت انہیں خطرناک بنا دیتی ہے۔

اس کا ایک ممکنہ نتیجہ یہ ہے کہ سوچی کی سالگرہ کے موقع پر ان کی رہائی کے لیے درخواستوں پر کان نہیں دھرا جائے گا اور امکان یہی کہ وہ زندگی کا یہ سال بھی زیادہ تر اپنے گھر کی چار دیواری میں قید تنہائی میں ہی گزاریں گی۔

بیرونی لِنک
بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد