سوچی کی مدت نظر بندی میں اضافہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برما میں حکام کے مطابق فوجی حکومت نے اپوزیشن رہنما آنگ سان سوچی کی گھر میں نظر بندی کی مدت بڑھا دی ہے۔ آنگ سان سوچی کی ان کے اپنے گھر میں نظر بندی کی مدت سنیچر کو ختم ہو رہی تھی اور امید کی جا رہی تھی کہ انہیں رہا کر دیا جائے گا۔ جمہوریت نواز رہنما آنگ سان سوچی کو مئی دو ہزار تین میں نظر بند کیا گیا تھا۔ سولہ سال کی نظر بندی میں انہوں نے دس سال اپنے گھر میں نظر بند ہو کر گزارے ہیں۔ جمعہ کو اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کوفی عنان نے برما کی فوجی حکومت کے سربراہ سے اپیل کی تھی کہ آنگ سان سوچی کی نظر بندی ختم کردی جائے۔ کوفی عنان کا کہنا تھا کہ انہیں یقین ہے کہ جنرل تھان شوی درست قدم اٹھائیں گے۔ لیکن چند ہی گھنٹوں کے بعد برما کی حکومت کا یہ فیصلہ سامنے آگیا کہ ساٹھ سالہ آنگ سان سوچی مزید نظر بند رہیں گی۔ اس اعلان سے قبل رنگون میں واقع ان کے گھر کے اطراف سکیورٹی بڑھا دی گئی تھی اور ان کی نظر بندی کی مدت میں اضافے کے بعد اب فوجی اہلکار موجود رہیں گے۔ حکام کا کہنا ہے کہ انہیں معلوم نہیں کہ وہ کب تک نظر بند رہیں گی۔ آنگ سان سوچی کی سیاسی جماعت نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی انتخابات میں فتح کی سولہویں سالگرہ منانے کی تیاریاں کر رہی ہے تاہم جماعت کی اس کامیابی کو فوج نے کبھی تسلیم نہیں کیا۔ واضح رہے کہ انیس سو باسٹھ میں فوج نے اقتدار پر قبضے کر لیا تھا اور وہاں فوجی حکومت قائم ہوگئی تھی۔ جماعت کے ترجمان کا کہنا ہے کہ انہیں آنگ سان سوچی کی نظر بند ی کی مدت میں اضافے سے سخت مایوسی ہوئی ہے اور یہ فیصلہ ملکی رواداری پر ایک بڑا دھچکہ ہے۔ تھائی لینڈ اور ملائیشیا کی حکومتوں نے بھی برما کی حکومت کے اس فیصلے پر مایوسی کا اظہار کیا ہے۔ | اسی بارے میں رہائی غیر مشروط ہے: سوچی06.05.2002 | صفحۂ اول برما: آنگ سان سوچی رہا06.05.2002 | صفحۂ اول سوچی: اقوام متحدہ کا مطالبہ 05.06.2003 | صفحۂ اول ’سوچی بہتر حالت میں ہیں‘10.06.2003 | صفحۂ اول سوچی کو فوراً رہا کیا جائے: آسیان16.06.2003 | صفحۂ اول سُوچی سے ملاقات06.09.2003 | صفحۂ اول سوچی کی رہائی کے لئے مہم22 September, 2003 | صفحۂ اول برما: وزیراعظم کو برطرف کر دیا گیا19 October, 2004 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||