’یورپ پھر روسی نشانے پر آ سکتا ہے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ مشرقی یورپ میں اپنا میزائل دفاعی نظام بنانے سے باز نہ آیا تو روس ایک مرتبہ پھر اپنے میزائلوں کا رخ یورپ کی جانب موڑ سکتا ہے۔ روسی صدر نے جرمنی میں جی ایٹ سربراہ اجلاس کے آغاز سے قبل ایک اطالوی اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ اس امریکی منصوبے سے اسلحے کی ایک نئی دوڑ شروع ہو سکتی ہے جس کی تمام تر ذمہ داری امریکہ پر عائد ہوگی۔ ولادیمیر پوتن کا کہنا تھا کہ’اگر یورپ میں امریکہ کی جوہری موجودگی میں اضافہ ہوتا ہے تو ہمیں یورپ میں نئے اہداف منتخب کرنے ہوں گے۔ یہ ہماری فوج پر ہے کہ وہ کسے ہدف بناتی ہے اور بیلسٹک اور کروز میزائلوں میں سے کس کا انتخاب کرتی ہے‘۔ روسی رہنما کا یہ بھی کہنا تھا کہ امریکہ نے سنہ 2002 میں انٹی بیلسٹک میزائل معاہدے سے یکطرفہ طور پر ہاتھ کھینچ کر’سٹریٹجک توازن‘ خراب کر دیا تھا۔گزشتہ ہفتے بھی روس نے کہا تھا کہ اس نے دنیا میں’سٹریٹجک توازن‘ برقرار رکھنے کے لیے ایک بیلسٹک میزائل کا تجربہ کیا ہے۔ امریکہ اپنے دفاعی منصوبے کے تحت پولینڈ میں ’انٹرسپٹر راکٹ‘ اور جمہوریہ چیک میں ایک ریڈار اڈہ قائم کرنا چاہتا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ یہ تنصیبات شمالی کوریا اور ایران جیسے ممالک سے لاحق ممکنہ خطرے کے مقابلے کے لیے ضروری ہیں۔ | اسی بارے میں میزائل نظام نصب کریں گے: رائس15 May, 2007 | آس پاس امریکی میزائل پر روس کا ردعمل 19 February, 2007 | آس پاس امریکہ’بہت خطرناک‘ ہے: پوتن10 February, 2007 | آس پاس امریکہ: میزائل کا کامیاب تجربہ02 September, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||