BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 10 February, 2007, 20:38 GMT 01:38 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
امریکہ’بہت خطرناک‘ ہے: پوتن
ولادی میر پوتن
اسلحے کی دوڑ کو تقویت مل رہی ہے اور دوسرے ممالک ایٹمی ہتھیار حاصل کرنا چاہتے ہیں۔
روسی صدر ولادیمیر پوتن نے امریکہ کو ’بہت خطرناک‘ قرار دیتے ہوئے اس پر دنیا میں ’تقریباً لامحدود‘ طاقت کے استعمال کے لیے شدید تنقید کی ہے۔

میونخ میں سکیورٹی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی تعلقات کی جانب امریکہ کے ’بہت خطرناک‘ رویے سے ایٹمی اسلحے کی دوڑ کو تقویت ملی ہے۔

وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں دنیا میں امریکی کردار کے حوالے سے روسی صدر ولادیمیر پوتن کے بیان کو مایوس کن اور حیرت انگیز قرار دیا گیا ہے۔ وائٹ ہاوس کے ترجمان کا کہنا تھا کہ روسی صدر نے جو الزامات عائد کیے ہیں وہ غلط ہیں تاہم امریکہ روس سے اپنا تعاون جاری رکھےگا۔

صدر پوتن نے مندوبین سے کہا تھا کہ دنیا کو ’بین الاقوامی تعلقات میں لگ بھگ لامحدود طاقت کے کثرت سے استعمال‘ کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا: ’ایک ملک، امریکہ، ہر طور پر اپنی سرحدوں سے تجاوز کررہا ہے۔‘

دنیا کو ’بین الاقوامی تعلقات میں لگ بھگ لامحدود طاقت کے کثرت سے استعمال‘ کا سامنا ہے اور ایک ملک، امریکہ، ہر طور پر اپنی سرحدوں سے تجاوز کر رہا ہے‘۔
ولادی میر پوتن

روسی صدر نے مزید کہا: ’یہ بہت خطرناک ہے۔ کوئی بھی محفوظ محسوس نہیں کرتا کیونکہ کوئی بھی عالمی قوانین کی پناہ نہیں لے سکتا۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ’اس وجہ سے اسلحے کی دوڑ کو تقویت مل رہی ہے اور (دوسرے) ممالک ایٹمی ہتھیار حاصل کرنا چاہتے ہیں۔‘

روسی صدر کے خطاب سے قبل جرمنی کی چانسلر انگیلا مرکل نے اپنے خطاب میں کہا تھا کہ عالمی برادری ایران کو ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کے لیے پرعزم ہے۔ ایران کے ایٹمی معاملات کے مذاکرات کار علی لاریجانی بھی جرمنی کے شہر میونخ میں ہونے والی اس سکیورٹی کانفرنس میں شرکت کررہے ہیں۔

میونخ میں ہونے والی یہ کانفرنس 1962 میں شروع ہوئی تھی۔ اس کانفرنس میں ہر سال عالمی رہنما اپنے وقت کے اہم مسائل پر خیالات کا تبادلہ کرتے ہیں۔

اپنے خطاب میں جرمن چانسلر انگیلا مرکل نے کہا کہ ایران کے اقوام متحدہ اور اس کے ایٹمی ادارے آئی اے ای اے کے مطالبات سے بچنے کا ’کوئی راستہ‘ نہیں بچا۔

انگیلا مرکل نے کہا: ’ہم یہاں جس چیز کی بات کررہے ہیں وہ، بہت، بہت حساس ٹیکنالوجی ہے۔ اور اس وجہ سے ہم (اس معاملے میں) شفاف طریقہ دیکھنا چاہتے ہیں جو کہ ایران فراہم نہیں کر پایا ہے۔‘

توقع کی جارہی ہے کہ ایرانی مندوب علی لاریجانی اس کانفرنس کو بتائیں گے کہ ان کا ملک ایٹمی ہتھیار نہیں بلکہ ایٹمی توانائی کا خواہاں ہے۔ اس کانفرنس میں یورپی یونین کے سفارتکار علی لاریجانی سے مذاکرات کرنے والے ہیں۔

جوہری پروگرامجوہری پروگرام
اسرائیل کو برطانیہ نے بھاری پانی فراہم کیا تھا
آج سے بیس سال قبل
چرنوبل جوہری پلانٹ حادثے کی یاد
ضرورت کیا ہے؟
ایران کے جوہری پروگرام پر نئی بحث
تناؤ کی تاریخ
شمالی کوریا کے جوہری دھماکے سے پہلے کیا ہوا
ثبوت نہیں ملا
ایران میں جوہری ہتھیاروں کی تیاری
اسی بارے میں
امریکہ بہت خطرناک: پوتن
10 February, 2007 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد