BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 10 February, 2007, 12:53 GMT 17:53 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
امریکہ بہت خطرناک: پوتن
امریکہ تجاوز کررہا ہے: روسی صدر
روسی صدر ولادیمیر پوتن نے امریکہ کو ’بہت خطرناک‘ قرار دیا ہے اور اس پر دنیا میں ’تقریباً لامحدود‘ طاقت کے استعمال کے لیے شدید تنقید کی ہے۔

میونخ میں سکیورٹی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی تعلقات کی جانب امریکہ کے ’بہت خطرناک‘ رویے سے ایٹمی اسلحوں کی دوڑ کو تقویت ملی ہے۔

ایران کے ایٹمی معاملات کے مذاکرات کار علی لاریجانی بھی جرمنی کے شہر میونخ میں ہونے والی اس سکیورٹی کانفرنس میں شرکت کررہے ہیں۔

روسی صدر کے خطاب سے قبل جرمنی کی چانسلر انگیلا مرکل نے اپنے خطاب میں کہا کہ عالمی برادری ایران کو ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کے لیے پرعزم ہے۔

میونخ میں ہونے والی یہ کانفرنس 1962 میں شروع ہوئی تھی۔ اس کانفرنس میں ہر سال عالمی رہنما اپنے وقت کے اہم مسائل پر خیالات کا تبادلہ کرتے ہیں۔

یہاں جس چیز کی بات کررہے ہیں وہ، بہت، بہت حساس ٹیکنالوجی ہے۔ اور اس وجہ سے ہم (اس معاملے میں) شفاف طریقہ دیکھنا چاہتے ہیں جو کہ ایران فراہم نہیں کر پایا ہے۔
جرمن چانسلر مرکل

صدر پوتن نے مندوبین سے کہا کہ دنیا کو ’بین الاقوامی تعلقات میں لگ بھگ لامحدود طاقت کے کثرت سے استعمال‘ کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا: ’ایک ملک، امریکہ، ہر طور پر اپنی سرحدوں سے تجاوز کررہا ہے۔‘

روسی صدر نے مزید کہا: ’یہ بہت خطرناک ہے۔ کوئی بھی محفوظ محسوس نہیں کرتا کیونکہ کوئی بھی عالمی قوانین کی پناہ نہیں لے سکتا۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ’اس وجہ سے اسلحے کی دوڑ کو تقویت مل رہی ہے اور (دوسرے) ممالک ایٹمی ہتھیار حاصل کرنا چاہتے ہیں۔‘

اپنے خطاب میں جرمن چانسلر انگیلا مرکل نے کہا کہ ایران کے اقوام متحدہ اور اس کے ایٹمی ادارے آئی اے ای اے کے مطالبات سے بچنے کا ’کوئی راستہ‘ نہیں بچا۔

انگیلا مرکل نے کہا: ’ہم یہاں جس چیز کی بات کررہے ہیں وہ، بہت، بہت حساس ٹیکنالوجی ہے۔ اور اس وجہ سے ہم (اس معاملے میں) شفاف طریقہ دیکھنا چاہتے ہیں جو کہ ایران فراہم نہیں کر پایا ہے۔‘

توقع کی جارہی ہے کہ ایرانی مندوب علی لاریجانی اس کانفرنس کو بتائیں گے کہ ان کا ملک ایٹمی ہتھیار نہیں بلکہ ایٹمی توانائی کا خواہاں ہے۔ اس کانفرنس میں یورپی یونین کے سفارتکار علی لاریجانی سے مذاکرات کرنے والے ہیں۔

جوہری پروگرامجوہری پروگرام
اسرائیل کو برطانیہ نے بھاری پانی فراہم کیا تھا
آج سے بیس سال قبل
چرنوبل جوہری پلانٹ حادثے کی یاد
ضرورت کیا ہے؟
ایران کے جوہری پروگرام پر نئی بحث
تناؤ کی تاریخ
شمالی کوریا کے جوہری دھماکے سے پہلے کیا ہوا
جارج بش اور من موہن سنگھامریکی تعاون
جوہری حمایت پر انڈیا میں شادمانی کی لہر
ثبوت نہیں ملا
ایران میں جوہری ہتھیاروں کی تیاری
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد