BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 18 November, 2006, 15:51 GMT 20:51 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جوہری حمایت پر انڈیا شادمان
جارج بش اور من موہن سنگھ
صدر بش نے بل پاس ہونے سے چند گھنٹے پہلے انڈین وزیراعظم من موہن سنگھ سے فون پر بات کی
امریکی سینٹ نےبھارت اور امریکہ کے درمیان جوہری معاہدے کے بل کو پاس کر دیا۔

آٹھ سال پہلے 1998 میں راجستھان کے علاقے پوکھران میں پانچ جوہری تجربے کرنے پر امریکہ نے انڈیا سے سخت ناراضگی کا اظہار کیا تھا اور معاشی پابندیوں کی دھمکی بھی تھی۔

تاہم گزشتہ جمعرات کو امریکی سینیٹ نے انڈیا کے ساتھ جوہری تعاون کی حمایت کا اظہار کیا ہے۔ انڈیا نے اس خبر پر نہایت خوشی کا اظہار کیا ہے۔

وزیر امور خارجہ پرناب مکرجی کا کہنا ہے ’ انڈیا اس بل کو خوش آمدید کہتا ہے اور اس کی بڑے پیمانے پر حمایت پر بہت خوش ہے‘۔

بھارتی انتظامیہ کے ارکان ذاتی سطح پر بھی اس حمایت پر خوش ہوئے ہیں۔اس کے علاوہ امریکی سیاسی نمائندوں کو اس جوہری تعاون پر قائل کرنے والوں نے بھی خوشی کا اظہار کیا ہے۔

امریکی سینٹ کے پچاسی اراکین نے جوہری تعاون کی حمایت میں جبکہ دو اراکین نے مخالفت میں ووٹ ڈالے تھے۔اس سے پہلے سینیٹر ہیلری کلنٹل نے انڈیا کے جوہری پروگرام کے خلاف ووٹ دیا تھا۔ مگر ہیلری اور ان کے ڈیموکریٹ ساتھیوں نے اپنے انڈیا مخالفت جذبات کو پس پشت ڈال کر اس بل کی حمایت کی۔

حتی کہ بل کلنٹن نے بھی اس بل کے حق میں ووٹ دیا۔ امریکی صدر جارج ڈبلیو بش کی انڈیا پالیسی کو عام طور پر سراہا جاتا ہے۔ بش نے ووٹنگ سے چند گھنٹے پہلے من موہن سنگھ کو فون پر کہا کہ وہ پوری کوشش کریں گے اس قانون کو حمایت حاصل ہو جائے۔

من موہن سنگھ نے بائیں بازو کی جماعتوں کی مخالفت کے باوجود امریکہ کی طرف نئے تعلقات کے لیے ہاتھ بڑھایا ہے۔ انڈیا اپنے آٹھ جوہری ری ایکٹرز کو اپنے فوجی جوہری پروگرام کے طور پر برقرار رکھنا چاہتا ہے۔

انڈیا کا کہنا ہے کہ وہ اپنے ری ایکٹرز اور جوہری پیداوار کے بین الاقوامی معائنے کی اجازت نہیں دے گا۔

تاہم امریکی تنقید نگاروں کا کہنا ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ انڈیا کو خفیہ طور پر ہتھیار بنانے اور جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے پر دستخط نہ کرنے کا انعام دیا جا رہا ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ انڈیا کے ساتھ جوہری ہتھیاروں کے معاہدہ عدم پھیلاؤ کے معاہدے کو ختم کرنے میں نہ صرف تابوت میں آخری کیل کا کام کرے گا بلکہ انڈیا کو چھٹی جوہری طاقت بھی بنا دے گا۔

دلی میں ایک پریس کانفرنس میں انڈیا میں امریکی سفیرڈیوڈ ملفورڈ نے انڈیا کے چھٹی جوہری طاقت بننے کے موضوع پر بات کرنے سے گریز کیا۔مگر ساتھ ہی یہ کہا کہ امریکی تعاون سے انڈیا دنیا کی ایک بڑی طاقت بن کر ابھرے گا۔

ڈیوڈ ملفورڈ نے کہا کہ صدر بش کے اس بل سے انڈیا کو طاقت بن کر اپنے مسائل سے چھٹکارا پانے میں مدد ملے گی۔ ان کی باتیں ہندوستانیوں کے کانوں میں رس گھول رہی تھیں کیونکہ پوکھران ٹیسٹ کے بعد انہیں بے حد ذلت سہنی پڑی تھی۔

 انڈیا کو خفیہ طور پر ہتھیار بنانے اور جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے پر دستخط نہ کرنے کا انعام دیا جا رہا ہے۔ انڈیا کے ساتھ جوہری ہتھیاروں کے معاہدہ عدم پھیلاؤ کے معاہدے کو ختم کرنے میں نہ صرف تابوت میں آخری کیل کا کام کرے گا بلکہ انڈیا کو چھٹی جوہری طاقت بھی بنا دے گا۔
امریکی تنقید نگار

اُس وقت کی امریکی وزیر خارجہ میڈلن البرائٹ نے کہا تھا کہ انڈیا نے خود کو مشکل میں ڈال لیا ہے۔ ہندوستانی ناقدین کا کہنا ہے کہ اسی امریکہ نے بھارت کی بے عزتی کی تھی اور اب وہی نہ صرف انڈیا کو ہاتھوں ہاتھ لے رہا ہے بلکہ خود ہی دنیا کے سامنے انڈیا کو جوہری طاقت بتا رہا ہے۔

تنقید نگاروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ عراق کے معاملے میں امریکی موقف پر انڈیا کی تنقید اور 2003 میں انڈیا کے عراق میں فوجی بھیجنے سے انکار کے باوجود امریکہ اس بل کے حق میں ہے۔ ان کے مطابق یہ بل ایسے وقت میں منظور ہوا ہے جب چینی صدر ہو جنتاؤ انڈیا اور پاکستان کے دورے پر ہیں اس سے یہ پتا چلتا ہے کہ امریکہ انڈیا کو چین کے مقابلے پر لانے کا خواہش مند ہے۔

وزیر اعظم من موہن سنگھ کے مطابق انڈیا کو آہستہ آہستہ فوسل ایندھن پر انحصار کو کم کرنا ہوگا اور اپنے توانائی کے ذرائع کو صاف کرنے کی طرف توجہ دینی ہوگی جیسا کہ ہوا، شمسی اور جوہری توانائی۔

امریکی افسران نے خفیہ طور پر اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ وہ یہ سب انڈیا کو خوش کرنے کے لیے کر رہے ہیں تا کہ وہ امریکہ سے ایک سو چوبیس لڑاکا طیارے خریدنے کے لیے چھ ارب کا معاہدہ کر لے۔

اسی بارے میں
ایٹمی بم بنانے کی ویب سائٹ بند
04 November, 2006 | نیٹ سائنس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد