ماسکو میں بش، پیوتن مذاکرات | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی صدر جارج ڈبلیو بش جنوب مشرقی ایشیا کے دورے پر جاتے ہوئے مختصر وقت کے لیے ماسکو رکے ہیں جہاں انہوں نے روسی صدر ولادیمر پیوتن کے ساتھ ملاقات میں مختلف امور پر بات چیت کی۔ ملاقات کے بعد روسی حکومت کے ترجمان نے صحافیوں کو بتایا کہ امریکی صدر نے تجارت کے عالمی ادارے ’ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن‘ کا رکن بننے کی روس کی کوششوں کی حمایت کی ہے اور اس سلسلے میں ایک معاہدے پر دستخط کرنے کے لیے آمادگی کا اظہار کیا ہے۔ ترجمان کے مطابق صدر پیوتن اور صدر بش کی ملاقات کے دوران ایٹمی عدم پھیلاؤ اور ایران کے نیوکلیئر پروگرام کے علاوہ مشرق وسطیٰ کے موضوعات بھی زیر بحث آئے۔ یاد رہے کہ صدر پیوتن نے گذشتہ ہفتے نیوکلیئر مسئلے پر ایران کے چوٹی کے مذاکرات کار سے ملاقات کی تھی۔ وسط مدتی انتخابات میں ریپبلیکن پارٹی کی شکست اور نتیجاً کانگریس پر کنٹرول کھونے کے بعد صدر بش کا یہ پہلا غیر ملکی دورہ ہے۔ تـجزیہ کاروں کے مطابق صدر بش کے اس دورے سے اندازہ ہوگا کہ دنیا کے باقی رہنماء اب (انتخابات میں شکست کے بعد) ان کے ساتھ کیسا رویہ رکھتے ہیں؟ صدر پیوتن سے ملاقات کے بعد صدر بش سنگاپور اور پھر ’ایشیا پیسیفک سمٹ‘ کے لیے ویتنام روانہ ہو جائیں گے، جہاں ان کی توجہ شمالی کوریا کے نیوکلیئر پروگرام اور ایشیائی ممالک کے ساتھ آزادانہ تجارت کے معاہدوں کے لیے ہونے والے مذاکرات پر رہے گی۔ | اسی بارے میں شام اورایران سے کوئی نرمی نہیں14 November, 2006 | آس پاس اسامہ اور بش سب سے زیادہ خطرناک03 November, 2006 | آس پاس ایران پر صدر بش کی شدید تنقید27 October, 2006 | آس پاس جوہری پروگرام: ایرانی پیش رفت 23 October, 2006 | آس پاس شمالی کوریا: امریکی ناکام ہوگئے09 October, 2006 | آس پاس ایران جوہری تنازعہ: فرانس تعاون کرے03 October, 2006 | آس پاس ایٹم بم ایران کا پرانا خواب ہے29 September, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||