ایٹم بم ایران کا پرانا خواب ہے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایران میں اسلامی انقلاب کے رہبر آیت اللہ خمینی کا لکھا ہوا ایک خط تہران میں سامنے آیا ہے جس میں یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ انیس سو اسی کی دہائی میں عراق کے خلاف جنگ لڑنے والے ایرانی کمانڈر جوہری بم حاصل کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ یہ خط آیت اللہ خمینی نے انیس سو اٹھاسی میں عراق کے ساتھ جنگ کے آخری دنوں میں اپنے اعلیٰ اہلکاروں کو لکھا تھا۔ لیکن اسے ایران کے سابق صدر ہاشمی رفسنجانی نے اب شائع کیا ہے۔ یہ خط ایرانی رہنماؤں کے ان بیانات کے مخالف نظر آتا ہے جن میں انہوں نے کہا ہے کہ ایران جوہری بم حاصل نہیں کرنا چاہتا کیونکہ یہ اسلام کے اصولوں کے خلاف ہے۔ آیت اللہ خمینی کے لکھے گئے اس خط میں فوجی کمانڈرز کو وہ ضروریات بتائی گئی ہیں جن کے ذریعے وہ عراق کے ساتھ جنگ جاری رکھ سکیں۔ اس میں ہوائی جہاز، ہیلی کاپٹر، فوجیوں اور ہتھیاروں کا ذکر ہے۔ اور اس میں ایک اعلیٰ کمانڈر کے حوالے سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایران کو جنگ جیتنے کے لیئے اگلے پانچ سالوں میں لیزر گائڈڈ اور جوہری ہتھیاروں کی ضرورت ہو گی۔ چند ایرانی خبر رساں ایجنسیوں نے جوہری ہتھیاروں کا ذکر خط سے ہٹا دیا ہے کیونکہ ایران نے ہمیشہ اصرار کیا ہے کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش نہیں کر رہا۔ کئی مذہبی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ یہ اسلام کے اصولوں کے خلاف ہے۔ آیت اللہ خمینی کے خط میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ عراق کے خلاف آٹھ سال تک جاری جنگ کی وجہ سے ملک کی فوج اور معیشت پر کتنا منفی اثر پڑا تھا۔ اس وقت کے وزیر اعظم کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ معیشت کی حالت تشویش ناک حد تک کمزور ہوگئی تھی اور فوج میں لڑنے کے لیئے سپاہیوں کی بھی بہت کمی تھی۔ آیت اللہ خمینی کا یہ خط اس وقت سامنے آیا ہے جب ایران امریکہ سے اپنے متنازعہ جوہری پروگرام پر ممکنہ ٹکراؤ کی تیاری کر رہا ہے۔ لیکن اس کا پس منظر یہ بھی ہے کہ سابق صدر ہاشمی رفسنجانی اور ایک اعلیٰ کمانڈر کے درمیان اس بات پر بحث جاری ہے کہ آیت اللہ خمینی کو عراق کے ساتھ جنگ بندی پر رضامند کرنے میں کس کا زیادہ ہاتھ تھا۔ | اسی بارے میں ایران کا معاملہ پھر اقوام متحدہ میں؟27 August, 2006 | آس پاس ڈیڈلائن ختم، ایران موقف پر قائم31 August, 2006 | آس پاس امریکہ، برطانیہ پر احمدی کا حملہ20 September, 2006 | آس پاس بوشہر پلانٹ مکمل کرینگے: روس27 September, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||