پوتن، بش غیر سرکاری ملاقات | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
روس کے صدر ولادی میر پوتن امریکی صدر بش سے امریکی ریاست مین میں غیر سرکاری ملاقات کر رہے ہیں۔ روسی صدر اپنے ہم منصب سے دو روزہ بات چیت کے لیےاتوار کو امریکہ پہنچے ہیں۔ اس بات چیت کا مقصد دونوں ممالک کے درمیاں موجود حالیہ تناؤ کم کرنا ہے۔اس وقت امریکہ اور روس کے تعلقات یورپ میں امریکہ کی جانب سے میزائل نظام کی تنصیب اور کوسوو کی آزادی کے معاملے پر شدید تناؤ کا شکار ہیں۔ کینی بنک پورٹ میں واقع صدر بش کے ہالیڈے ہوم میں ہونے والی اس ملاقات سے قبل دونوں رہنماؤں نے سپیڈ بوٹ پر سیر بھی کی۔ روسی صدر کا کہنا ہے کہ وہ صدر بش سے ’دوستانہ‘ ملاقات کے متمنی ہیں۔روس سے روانگی کے موقع پر ان کا کہنا تھا کہ ’ مجھے امید ہے کہ ان سے میری بات چیت دوستانہ ہو گی کیونکہ ہمارے تعلقات اچھے بلکہ دوستانہ ہیں‘۔ دونوں رہنما اتوار کی شام کھانے پر مل رہے ہیں جبکہ مزید بات چیت پیر کو ہو گی۔ صدر بش اور صدر پوتن مچھلی کے شکار کے لیے بھی جائیں گے۔ بی بی سی کے جیمز کماراسامی کے مطابق دونوں جانب کے حکام کو اس بات چیت میں کسی بڑی تبدیلی کی توقع نہیں اور نامہ نگاروں کے مطابق یہ بات چیت ایک دوسرے پر بھروسہ قائم کرنے کے حوالے سے ہے۔
یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے ہی نیٹو کے سیکرٹری جنرل نے کہا ہے کہ روس اور مغربی ممالک کو چاہیے کہ وہ دفاع، کوسووو اور دیگر متنازعہ موضوعات پر اپنی بیان بازی میں نرمی برتیں۔ ییپ ڈی ہوپ شیفر نے ماسکو میں ذرائع ابلاغ سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ’میگافون پر بات کرنے کی ضرورت نہیں ہے‘۔ روسی صدر ولادیمیر پوتن سے مذاکرات کے بعد سیکرٹری جنرل نے کہا تھا’دونوں جانب کے لوگوں کے لیے اچھا ہے کہ وہ بیانات دیتے وقت اپنی آواز قدرے دھیمی رکھیں‘۔ ادھر پوتن کی امریکہ آمد کے موقع پر قریباً ایک ہزار افراد نے ان کی چیچنیا پالیسی کے خلاف مظاہرہ بھی کیا ہے۔ | اسی بارے میں میگافون کی ضرورت نہیں: نیٹو26 June, 2007 | آس پاس غیر مقبول عالمی طاقتیں و رہنماء28 June, 2007 | آس پاس جی ایٹ اجلاس پر تناؤ کا سایہ06 June, 2007 | آس پاس اصلاحات: بُش کی روس پر تنقید05 June, 2007 | آس پاس پوتن کا بیان، نیٹو کی مذمت04 June, 2007 | آس پاس میزائل نظام نصب کریں گے: رائس15 May, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||