BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
میگافون کی ضرورت نہیں: نیٹو
ییپ ڈی ہوپ شیفر اور پوتن
مسکراہٹیں اپنی جگہ لیکن نیٹو اور روسی کے تعلقات میں تناؤ ہے
نیٹو کے سیکرٹری جنرل نے کہا ہے کہ روس اور مغربی ممالک کو چاہیئے کہ وہ دفاع، کوسووو اور دیگر متنازعہ موضوعات پر اپنی بیان بازی میں نرمی برتیں۔

ییپ ڈی ہوپ شیفر نے ماسکو میں ذرائع ابلاغ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ’ میگافون پر بات کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔‘ روسی صدر ولادیمیر پوتن سے مذاکرات کے بعد سیکرٹری جنرل نے کہا کہ ’ دونوں جانب کے لوگوں کے لیے اچھا ہے کہ وہ بیانات دیتے وقت اپنی آواز قدرے دھیمی رکھیں۔‘

واضح رہے کہ روسی صدر نے دھمکی دی ہے کہ اگر امریکہ اپنی نئی میزائل شیلڈ کے کچھ حصے روسی سرحد کے قریب لگاتا ہے تو روس اپنے میزائلوں کا رخ یورپ کی جانب موڑ سکتا ہے۔

اسی طرح روس مغربی ممالک کے کوسووو کی آزادی کے منصوبے کا بھی مخالف ہے۔

سیکرٹری جنرل نے مزید کہا کہ ’اگر آپ یہ ذہن میں رکھیں کہ ہمارا نقطۂ آغاز سرد جنگ کے تنازعات تھے تو میں کہوں گا کہ روس اور نیٹو کے درمیان تعاون کی فضا قائم کرنا کبھی بھی کوئی آسان کام نہیں رہا ہے۔‘

 ماسکو نیٹو کے اس منصوبہ پر اپنی مخالفت کا اظہار کر چکا ہے جس کے تحت نیٹو اپنا دائرہ اثر مشرقی یورپ کے ممالک تک پھیلانا چاہتا ہے اور سابق سوویت یونین میں شامل یوکرین اور جارجیا کی ریاستوں کو اس میں شامل کرنا چاہتا ہے

روس ان امریکی منصوبوں پر غصے کا اظہار کر چکا ہے جن کے تحت امریکہ چیک ریپبلک میں ایک ریڈار اور پولینڈ میں میزائلوں کو روکنے والے سسٹم کے خلاف دس تنصیبات قائم کرنا چاہتا ہے۔

اس سلسلے میں نیٹو اور امریکہ کا کہنا ہے کہ ان میزائلوں کا نشانہ روس نہیں بلکہ شمالی کوریا اور ایران جیسی ’بدمعاش‘ ریاستیں ہیں۔

نیٹو کے سیکرٹری جنرل کے بیان سے قبل روس کے وزیر خارجہ نیٹو کو اس کے ان اقدامات کے بارے میں خبردار کر چکے ہیں جن سے روس کی سیکورٹی کو خطرہ ہو سکتا ہے۔

وزیر خارجہ سرجی لیوررو کا کہنا تھا کہ دونوں اطراف کو چاہئیے کہ وہ ’ کسی ایک کی سکیورٹی کی قیمت پر دوسرے کی سکیورٹی یقینی بنانے کے اقدامات نہ کریں۔‘

ماسکو نیٹو کے اس منصوبہ پر اپنی مخالفت کا اظہار کر چکا ہے جس کے تحت نیٹو اپنا دائرہ اثر مشرقی یورپ کے ممالک تک پھیلانا چاہتا ہے اور سابق سوویت یونین میں شامل یوکرین اور جارجیا کی ریاستوں کو اس میں شامل کرنا چاہتا ہے۔

اسی طرح کوسوو کے مستقبل کے بارے میں بھی مغربی ممالک اور روس کے خیالات میں فرق ہے۔ امریکہ اور یورپی یونین اقوام متحدہ کے کوسوو کو آزادی دینے کے منصوبہ کی حمایت کرتے ہیں لیکن روس کا کہنا ہے کہ اس معاملے پر مزید بات چیت کی ضرورت ہے۔

مشرقی جرمنیلڑکیوں کا بحران
مشرقی جرمنی: لڑکیاں گئیں، لڑکے مایوس
ایک نئی سرد جنگ؟
امریکہ اور ایران میں بڑھتی ہوتی ہوئی خلیج
تناؤ کی تاریخ
شمالی کوریا کے جوہری دھماکے سے پہلے کیا ہوا
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد