میگافون کی ضرورت نہیں: نیٹو | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
نیٹو کے سیکرٹری جنرل نے کہا ہے کہ روس اور مغربی ممالک کو چاہیئے کہ وہ دفاع، کوسووو اور دیگر متنازعہ موضوعات پر اپنی بیان بازی میں نرمی برتیں۔ ییپ ڈی ہوپ شیفر نے ماسکو میں ذرائع ابلاغ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ’ میگافون پر بات کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔‘ روسی صدر ولادیمیر پوتن سے مذاکرات کے بعد سیکرٹری جنرل نے کہا کہ ’ دونوں جانب کے لوگوں کے لیے اچھا ہے کہ وہ بیانات دیتے وقت اپنی آواز قدرے دھیمی رکھیں۔‘ واضح رہے کہ روسی صدر نے دھمکی دی ہے کہ اگر امریکہ اپنی نئی میزائل شیلڈ کے کچھ حصے روسی سرحد کے قریب لگاتا ہے تو روس اپنے میزائلوں کا رخ یورپ کی جانب موڑ سکتا ہے۔ اسی طرح روس مغربی ممالک کے کوسووو کی آزادی کے منصوبے کا بھی مخالف ہے۔ سیکرٹری جنرل نے مزید کہا کہ ’اگر آپ یہ ذہن میں رکھیں کہ ہمارا نقطۂ آغاز سرد جنگ کے تنازعات تھے تو میں کہوں گا کہ روس اور نیٹو کے درمیان تعاون کی فضا قائم کرنا کبھی بھی کوئی آسان کام نہیں رہا ہے۔‘ روس ان امریکی منصوبوں پر غصے کا اظہار کر چکا ہے جن کے تحت امریکہ چیک ریپبلک میں ایک ریڈار اور پولینڈ میں میزائلوں کو روکنے والے سسٹم کے خلاف دس تنصیبات قائم کرنا چاہتا ہے۔ اس سلسلے میں نیٹو اور امریکہ کا کہنا ہے کہ ان میزائلوں کا نشانہ روس نہیں بلکہ شمالی کوریا اور ایران جیسی ’بدمعاش‘ ریاستیں ہیں۔ نیٹو کے سیکرٹری جنرل کے بیان سے قبل روس کے وزیر خارجہ نیٹو کو اس کے ان اقدامات کے بارے میں خبردار کر چکے ہیں جن سے روس کی سیکورٹی کو خطرہ ہو سکتا ہے۔ وزیر خارجہ سرجی لیوررو کا کہنا تھا کہ دونوں اطراف کو چاہئیے کہ وہ ’ کسی ایک کی سکیورٹی کی قیمت پر دوسرے کی سکیورٹی یقینی بنانے کے اقدامات نہ کریں۔‘ ماسکو نیٹو کے اس منصوبہ پر اپنی مخالفت کا اظہار کر چکا ہے جس کے تحت نیٹو اپنا دائرہ اثر مشرقی یورپ کے ممالک تک پھیلانا چاہتا ہے اور سابق سوویت یونین میں شامل یوکرین اور جارجیا کی ریاستوں کو اس میں شامل کرنا چاہتا ہے۔ اسی طرح کوسوو کے مستقبل کے بارے میں بھی مغربی ممالک اور روس کے خیالات میں فرق ہے۔ امریکہ اور یورپی یونین اقوام متحدہ کے کوسوو کو آزادی دینے کے منصوبہ کی حمایت کرتے ہیں لیکن روس کا کہنا ہے کہ اس معاملے پر مزید بات چیت کی ضرورت ہے۔ |
اسی بارے میں پوتن کا بیان، نیٹو کی مذمت04 June, 2007 | آس پاس اصلاحات: بُش کی روس پر تنقید05 June, 2007 | آس پاس ’یورپ پھر روسی نشانے پر آ سکتا ہے‘03 June, 2007 | آس پاس روس کا یلسن کو آخری سلام25 April, 2007 | آس پاس امریکہ نیٹو سے مشورہ کرے: جرمنی03 March, 2007 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||