BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 25 April, 2007, 11:55 GMT 16:55 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
روس کا یلسن کو آخری سلام
یلسن کی آخری رسومات ماسکو کے کرائسٹ دا سیوئر کیتھیڈرل میں پوری کی جا رہی ہیں
ماسکو میں روس کے سابق صدر بورس یلسن کی ریاستی سطح کی آخری رسومات ادا کی جا رہی ہیں۔ پیر کو چھہتر سالہ بورس یلسن دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گئے تھے۔

یلسن کی آخری رسومات ماسکو کے کرائسٹ دا سیوئر کیتھیڈرل میں پوری کی جا رہی ہیں۔

اس کیتھیڈرل کو سویت حکمرانی کے دوران منہدم کر دیا گیا تھا لیکن بورس یلسن نے اقتدار میں آنے کے بعد اسے دوبارہ بنویا تھا۔

مسٹر یلسن کو خراج عقیدت پیش کرنےوالوں میں روس کے صدر ولادیمیر پوتن اور روس کے سابق صدر میخائل گورباچوف بھی شامل تھے۔

ان کے علاوہ امریکہ کے سابق صدور بل کلنٹن اور جارج بش سینئر نے بھی بورس یلسن کے آخری رسومات کی ادائیگی میں شرکت کی۔

ان کی آخری رسومات ادا کرنے کے لیے ریاستی سطح پر انتظامات کیے گئے ہیں اور بدھ کو قومی سوگ کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ قومی ٹیلیویژن چینل بھی ان کی آخری رسومات کی ادائیگی براہ راست نشر کرے گا۔

منگل کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیےسینکڑوں افراد نے مسٹر یلسن کے تابوت پر پھول چڑھائے اور ملک میں جمہوری نظام کی شروعات کی یادوں کو تازہ کیا۔

پچھہتر سالہ تیسیہ شیلونوا بورس یلسن کو یاد کرتے ہوئے کہتے ہیں’وہ ملک کے سب سے پہلے ایمان دار اور بہتر صدر تھے‘۔

مسٹر یلسن کو ان کے حریف اور روس کے سابق صدر میخائل گورباچوف کی بیوی کے پہلو میں دفنایہ جائے گا۔

یلسن کے سرگوار
منگل کوسینکڑوں افراد ماسکو کی چرچ میں اکٹھّے ہوئے

دسمبر سنہ انیس سو اکیانوے میں انہوں نے سویت یونین کے صدر میخائل گورباچوف کے استعفے کے بعد ملک کے پہلے جمہوری صدر کے طور پر اقتدار سنبھالا۔ انہوں نے انیس سو ترانوے میں پارلیمان میں سخت گیر موقف کے حامل اراکین کے خلاف فتح حاصل کی۔

عالمی سطح پر جمہوریت کے محافظ کے طور پر ان کی ستائش کی گئی۔

بورس یلسن نے انیس سو نوے میں کمیونسٹ پارٹی سے استعفیٰ دیا اور انیس سو اکیانوے میں روس کے صدر بنے۔ اسی سال انہوں نے گورباچوف سے اقتدار اپنے ہاتھ لیا اور قیمتوں پرکنٹرول کو ختم کردیا۔ انہوں نے نج کاری کی پالیسی بھی شروع کر دی۔

میخائل گورباچوف نے صدر یلسن کی موت پر کہا ہے کہ ’انہوں نے ملک کے لیے کئی بڑے کام لیکن سنگین غلطیاں بھی کیں۔‘

اسی بارے میں
بورس یلسن انتقال کر گئے
23 April, 2007 | آس پاس
پیوتن کا ستارہ بلند
13 March, 2004 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد