بورس یلسن انتقال کر گئے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کرملن نے کہا ہے کہ روس کے سابق صدر بورس یلسن انتقال کر گئے ہیں۔ ان کی عمر چھہتر برس تھی۔ ابھی تک بورس یلسن کی موت کی وجہ کا اعلان نہیں کیا گیا۔ تاہم وہ طویل عرصے سے دل کے عارضے میں مبتلا تھے۔ دسمبر سنہ انیس سو اکنانوے میں انہوں نے سویت یونین کے صدر میخائل گورباچوف کے استعفے کے بعد ملک کے پہلے جمہوری صدر کے طور پر اقتدار سنبھالا۔ انہوں نے انیس سو ترانوے میں پارلیمان میں سخت گیر موقف کے حامل اراکین کے خلاف فتح حاصل کی۔ عالمی سطح پر جمہوریت کے محافظ کے طور پر ان کی ستائش کی گئی۔ بورس یلسن کے کیرئر کا اہم موڑ وہ تھا جب انہوں نے میخائل گورباچوف کی بورس یلسن نے انیس سو نوے میں کمیونسٹ پارٹی سے استعفیٰ دیا اور انیس سو اکانوے میں روس کے صدر بنے۔ اسی سال انہوں نے گورباچوف سے اقتدار اپنے ہاتھ لیا اور قیمتوں پرکنٹرول کو ختم کردیا۔ انہوں نے نج کاری کی پالیسی بھی شروع کر دی۔ انیس سو ترانوے میں روس خانہ جنگی کے دہانے پر پہنچ گیا اور صدر بورس یلسن کے حکم سے ٹینکوں سے پارلیمان کی عمارت پر گولے داغے گئے۔ دسمبر انیس سو چورانوے میں انہوں نے چیچنیا میں فوج کشی کا حکم دیا اور دو برس بعد وہ روسی پارلیمان کے دوسری بار صدر منتخب ہوئے۔انیس سو ننانوے میں انہوں نے خود کو اقتدار سے علیحدہ کر لیا اور موجودہ صدر ولادیمیر پوتن کو اپنا جانشین مقرر کیا۔ اس وقت ان کی مقبولیت بہت کم ہو چکی تھی اور ملک معاشی طور پر مسائل کا شکار تھا۔ میخائل گورباچوف نے صدر یلسن کی موت پر کہا ہے کہ ’انہوں نے ملک کے لیے کئی بڑے کام لیکن سنگین غلطیاں بھی کیں۔‘ | اسی بارے میں روس میں حکومت برطرف کر دی گئی24 February, 2004 | آس پاس پیوتن کا ستارہ بلند 13 March, 2004 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||