’روسی فوجیوں کا جنسی استحصال‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
روس میں اطلاعات کے مطابق فوجیوں کے جنسی استحصال کے بارے میں الزامات کی تحقیق کی جا رہی ہیں۔ وزارت داخلہ کے حکام نے فوجیوں کی ماؤں کی انسانی حقوق کی تنظیم کے دعووں کی تردید کی ہے۔ ماؤں کی اس تنظیم کا کہنا ہے کہ انہیں ایک فوجی کے والدین نے شکایت کی ہے کہ ان کے بیٹے کو جسم فروشی پرمجبور کیا گیا تھا۔ گزشتہ سال ایک اٹھارہ سال فوجی کو اتنی بری مارا پیٹا گیا تھا کے اس کی ٹانگیں اور نازک اعضا کو کاٹنا پڑا تھا۔ آندرے سی شیو نامی اس فوجی کو ان کے ساتھیوں نے کرسی سے باندھ کر بری طرح مارا پیٹا تھا۔ بڑی عمر کے فوجیوں پر الزام لگایا جاتا ہے کہ وہ نوجوان فوجیوں کو جسم فروشی پر مجبور کرتے ہیں اور پیسے اپنے پاس رکھ لیتے ہیں۔ ماؤں کی تنظیم کی ایک ترجمان ایلا پولیا کووا نے بی بی سی کو بتایا کہ سینٹ پیٹرز برگ میں ایسے لوگ ہیں جو فوجیوں کے ساتھ جنسی فعل کے لیے پیسے دینے کے لیے تیار ہیں۔ | اسی بارے میں مالڈووا میں جنسی تجارت12 July, 2004 | آس پاس پانچ لاکھ بچوں وخواتین کی تجارت30 September, 2004 | آس پاس امریکی سیاست، جنسی سکینڈل کا شور12 October, 2006 | آس پاس ’دس سال:20لاکھ بچےجنگوں کاشکار‘ 27 July, 2005 | آس پاس بلندوبالا عمارتیں، پسے ہوئے مزدور13 November, 2006 | آس پاس برطانوی کمپنیاں ’استحصال‘ کر رہی ہیں09 December, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||