BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 27 July, 2005, 00:37 GMT 05:37 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’دس سال:20لاکھ بچےجنگوں کاشکار‘
افریقی بچے
’اب بھی مختلف تنازعات میں ڈھائی لاکھ بچے بطور جنگجو شریک ہیں‘
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے متفقہ طور پر ایک قرارداد منظور کی ہے جس کا مقصد مسلح تنازعات کے دوران بچوں کا تحفظ ہے۔

سلامتی کونسل نے اس مقصد سے ایک نگران ادارے کے قیام پر بھی اتفاق کیا ہے تاکہ بچوں کے قتل اور انہیں معذور کرنے، بطور جنگجو بھرتی کرنے اور ان کے خلاف جنسی اور سماجی استحصال اور تشدد کو روکا جاسکے۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے پچاس سے زائد ایسی حکومتوں اور باغی گروپوں پر نظر رکھنے اور ان کے خلاف تادیبی کارروائی کرنے پر اتفاق کیا ہے جو بچوں کے حقوق پامال کرتے ہیں۔

اس برس کے آغاز میں اقوام متحدہ نے اپنی ایک رپورٹ میں سری لنکا کے تامل ٹائیگر باغیوں اور برونڈی، آئیوری کوسٹ، جمہوریہ کونگو اور صومالیہ کے بعض گروپوں کو بچوں کے حقوق کی پامالی کا ذمہ دار قرار دیا تھا۔

اس کے ساتھ ساتھ نیپالی باغیوں، یوگینڈا کی لورڈز آرمی اور سوڈان کی جنجاوید ملیشیا کو بھی بچوں کے قتل، اغواء اور ان کو معذور بنانے کا ذمہ دار قرار دیا تھا۔

اب سلامتی کونسل نے ان تمام گروپوں کو صورتحال کی بہتری اور بچوں کے حقوق کی پامالی ختم کرنے اور اس بات کی نگرانی کے لیے باقاعدہ ادارے بنانے کا حکم دیا ہے۔

مسلح تنازعات کے علاقوں میں بچوں کے تحفظ کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے اولارا اوتونو نے اقوام متحدہ کی قرارداد کو ایک اہم موڑ قرار دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’میں بہت پرامید ہوں کہ کئی فریق اس قرارداد پر عمل کریں گے۔ بلکہ اس قرارداد کی منظوری سے بھی پہلے ہم ان میں سے بہت سے گروپوں کے ساتھ رابطے میں رہے ہیں۔ وہ اس معاملے پر بات کرنے اور اپنے اس فہرست سے نکلوانے کے لیے بہت بیتاب ہیں‘۔

سلامتی کونسل نے اس سے بھی اتفاق کیا ہے کہ ان گروپوں کے لیے باضابطہ اہداف مقرر کیے جائیں اور ناکافی پیشرفت کی صورت میں ہتھیاروں اور مالی امداد پر پابندی اور سفری پابندیاں وغیرہ عائد کی جائیں۔

اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ دس برسوں میں بیس لاکھ بچے مسلح تنازعات میں مارے جاچکے ہیں جبکہ اب بھی ایسے تنازعات میں ڈھائی لاکھ بچے بطور جنگجو شریک ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد