لندن:آسیب کے نام پر بچوں پر تشدد؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لندن میں امدادی کارکنوں نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ سینکڑوں افریقی بچوں پر آسیب زدہ ہونے کا الزام لگا کر ان کو علاج کے لیے افریقہ بھجوایا گیا ہے جہاں ان پر تشدد کیا جاتا ہے جس سے کئی بچے ہلاک ہو گئے ہیں۔ لندن میں جمعہ کو ایک عدالت نے دو عورتوں سیمت تین افریقی نژاد لوگوں کو ایک آٹھ سالہ یتیم افریقی لڑکی کو تشدد کا نشانہ بنانے کے الزام میں سزا کا اعلان کیا۔ عدالت سے سزا پانے والوں کا تعلق وسط افریقی ملک انگولا سے ہے۔ امدادی کارکنوں نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ یہ کوئی اکلوتا واقعہ نہیں ہے بلکہ اس طرح کے واقعات پہلے بھی ہوتے رہتے ہیں۔ انہوں نے بتایا دو سال پہلے دو بچوں کو جن کے بارے میں خیال کیا جاتا تھا کہ وہ آسیب زدہ ہیں علاج کے لیے انگولا لے جایا گیا جہاں ان کو مار دیا گیا تھا۔ لندن کی عدالت کو بتایا گیا کہ جس آٹھ سالہ یتیم لڑکی کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے اس کو اس کی رشتہ دار خاتون اسے انگولا سے برطانیہ لائی تھیں۔ لڑکی کی رشتہ دار خاتون نے اسے اس وقت تشدد کانشانہ بنانا شروع کر دیا جب ایک لڑکے نے اس پر جادو ٹونے کرنے کا الزام لگایا۔ اس افریقی عورت نے کچھ اور لوگوں کی مدد سے اس لڑکی کے جسم سے آسیب کو نکالنے کے لیے چاقو سے اس یتیم لڑکی کے جسم کے کئی حصوں میں کٹ لگائے اور اس کے آنکھوں میں مرچیں ڈال دیں۔ لڑکی نے پولیس والوں کو بتایا کہ ایک دن اس کو باورچی خانے میں بند کر دیا گیا اور کہا کہ آج اسے مار دیا جائے گا۔ لڑکی نے پولیس کو مزید بتایا کہ ایک دن اس کو بوری میں بند کر دیا گیا اور اس کو یقین ہو گیا تھا کہ اس کو کسی دریا میں بہا دیا جائے گا۔ امدادی کارکنوں کا کہنا ہے کہ افریقہ میں آسیب اور سایہ کے مسائل کی وجہ مرکزی گرجے سے علیحدہ ہو جانے والے گرجوں میں قدیم افریقی عقائد اور مسیحی تعلیمات کا امتزاج ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||