نیپال: سینکڑوں بچے مظالم کا شکار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ نیپال میں حکومت اور ماؤ نوازوں کے درمیان جھڑپوں میں دونوں ہی فریق بچوں پر ظلم کر رہے ہیں۔ نیپال میں نو سال سے ماؤ نواز بغاوت زوروں پر ہے اور ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق یہ نو سال نیپالی بچوں پر بہت بھاری گزرے ہیں۔ ایمنسٹی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حکومت اور ماؤ نواز باغی دونوں ہی بچوں سے متعلق انسانی حقوق کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔ کم از کم چار سو بچوں کی ہلاکت کی اطلاع ہے ۔ ایمنسٹی کے مطابق پچھلے سال فوج نے چار نہتی لڑکیوں کو ماؤ نواز ہونے کے الزام میں گولی مار دی تھی۔ جبکہ ماؤ نوازوں نے ایک پندرہ سالہ لڑکے کو گولی ماری اور ان کے مختلف حملوں میں بھی متعدد بچے ہلاک ہوئے ہیں۔ نیپالی حکومت پر خصوصًا بچوں پر تشدد اور پولیس کے ہاتھوں لڑکیوں کی مبینہ عصمت دری کے سلسلے میں تنقید کی جاتی ہے۔ جبکہ ماؤ نوازوں پر الزام ہے کہ وہ اکثر بم حملوں میں سکولوں کو نشانہ بناتے ہیں اور بچوں کو اغوا کر کے کچھ کو پُر تشدد کارروائیوں کے لیے بھرتی کر لیتے ہیں۔ ایمنسٹی کی اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ دونوں ہی فریق کئی بار انسانی حقوق کے عالمی قوانین کی پاسداری کا وعدہ کر چکے ہیں لیکن انہوں نے کبھی اپنا وعدہ پورا نہیں کیا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||