BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 18 June, 2005, 15:57 GMT 20:57 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
امریکہ: نو بچوں کے قاتل کو سزا
ویسن
دوران سماعت ویسن کے اپنے خاندان پر جابرانہ کنٹرول کی تفصیلات بھی سامنے آئیں
امریکہ کی ایک عدالت نے اپنے نو بچوں کو قتل کرنے والے اٹھاون سالہ مارکس ویسن نامی شخص کو سزا دینے کا حکم سنایا ہے۔

مذہبی ذہن رکھنے والے مارکس ویسن جو اپنے خاندان کو ایک فرقے کی طرح چلا رہے تھے، انہیں سزائے موت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

امریکی ریاست کیلیفورنیا کے شہر فریسنو سے انہیں پولیس نے گزشتہ برس اس وقت گرفتار کیا تھا جب ان کے گھر سے پولیس نے نو لاشیں برآمد کی تھیں۔ تمام لاشوں پر ملتی جلتی گولیوں کے نشانات موجود تھے۔

سان فرانسسکو کے جنوب مغرب میں ایک سو نوے میل کے فاصلے پر واقع علاقے فریسنو میں پیش آنے والا قتل عام کا یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے۔ جس سے علاقے کے شہریوں کو ایک بڑا صدمہ پہنچا تھا۔

ویسن کے وکلاء نے اپنے دلائل میں کہا تھا کہ ان کی بیٹی نے آٹھ قتل کیے اور بعد میں خود کو بھی مار ڈالا تھا۔

ایک سے پچیس برس کے درمیان کی عمر والے تمام مقتولین کے قتل کے جرم میں امریکی جیوری نے دو ہفتوں کی سماعت کے بعد انہیں سزا سنائی ہے۔

عدالت نے مارکس ویسن کو اپنی سات بیٹیوں، بھانجیوں اور بھتیجیوں پر چودہ بار جنسی تشدد کا مجرم بھی ٹھرایا ہے۔ انہوں نے اپنے خاندان کو بتا رکھا تھا کہ انہیں ’لارڈ کے لیے بچیوں‘ کی ضرورت ہے۔

ویسن کے نو بچوں میں سے زیادہ تر ان کے ناجائز اولاد تھے۔ ان کی جن چار بیویوں سے یہ بچے پیدا ہوئے ان میں سے دو ان کی بیٹیاں تھیں۔

دوران سماعت ویسن کے اپنے خاندان پر جابرانہ کنٹرول کی تفصیلات بھی سامنے آئیں کہ وہ خواتین کو باہر کی دنیا سے رابطہ کرنے نہیں دیتا تھا اور خود کو الہامی طور پر نوازے ہوئے مبلغ کے طور پر پیش کرتا تھا۔

نو بچوں کے قتل کا واقعہ اس وقت سامنے آیا جب دو خواتین جو مارکس ویسن کی بیویاں تھیں، اپنے بچے لینے آئیں لیکن انہیں ملنے نہیں دیا گیا۔

نو بچوں کے قتل میں استعمال ہونے والے ہتھیار پر کسی کے انگلیوں کے نشانات نہیں ملے تھے جس سے یہ ثابت کرنا ناممکن ہوگیا کہ گولیاں کس نے چلائیں؟

لیکن استغاثہ نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ اگر مارکس ویسن کی بیٹی سیب ہرینہ نے آٹھ قتل کرنے کے بعد خود کو ہلاک کردیا تھا تو بھی ویسن ہی مجرم ہیں کیونکہ انہوں نے ہی اپنی بیٹی کی حوصلہ افزائی کی تھی۔

عدالت نے کئی گواہوں سے جو شواہد حاصل کیے اس کے مطابق مارکس ویسن اپنے بچوں کو بارہا کہہ چکے تھے کہ اگر حکام نے ان کے خاندان کو توڑنے کی کوشش کی تو وہ ایک دوسرے کو قتل کرنے کے لیے تیار ہوجائیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد