تین سال کے بعد پہلی سزائے موت | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کیلیفورنیا کے گورنر آرنلڈ شورازنیگر نے ایک قاتل کی سزائے موت میں رحم کی اپیل مسترد کر دی ہے۔ اکسٹھ سالہ ڈونلڈ بیئرڈسلی کو بدھ کے روز (آج) جان لیوا انجیکشن کے ذریعے موت کی نیند سلا دیا جائے گا۔ کیلیورنیا کے گورنر کی سزا میں نرمی کے مسترد کیے جانے کے بعد ریاست میں تین سال میں پہلی مرتبہ کسی کو سزائے موت دی جائے گی۔ فضائیہ کے سابق فوجی ڈونلڈ بیئرڈسلی نے 1981 میں دو خواتین کو قتل کرنے کا اعتراف کیا ہے۔ اس کے تین سال بعد انہیں سزائے موت سنائی گئی۔ ان کے وکلاء کا کہنا ہے کہ ان کے ساتھیوں نے انہیں نشہ آور دوا پلائی تھی اور وہ اس وقت کسی ذہنی بیماری میں مبتلا تھے۔ وکلاء کا یہ بھی کہنا ہے کہ جان لیوا انجیکشن سے موت ایک سفاک اور غیرمعمولی سزا ہے۔ گورنر شیوارزنیگر نے ایک بیان میں کہا کہ شواہد سزا میں کسی طرح کی معافی کی طرف اشارہ نہیں کرتے اور نہ ہی انہیں معافی کے لیے قائل کر سکیں ہیں۔ امریکہ میں ریاست کیلیفورنیا میں سب سے زیادہ موت کی سزا پانے والے جیلوں میں بند زندگیوں کے دن گن رہے ہیں۔ اس وقت 640 افراد ایسے ہیں جن کو موت کی سزا سنائی گئی اور وہ اپنے آخری وقت کا انتظار کر رہے ہیں اور رحم کی اپیلوں میں بیس سال سے بھی زیادہ عرصہ لگ جاتا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||