عادی قاتل کا پولیس سے تعاون | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایک فرانسیسی عادی قاتل مائیکل فوغنیغے جس نے سات لڑکیوں سمیت نو افراد کو قتل کرنے کا اقرار کیا ہے، پولیس کے ساتھ تعاون کر رہا ہے عادی قاتل نے پولیس کو بتایا ہے کہ اس نے لڑکیوں کو قتل کرنے کے بعد کہاں کہاں پر چھپایا تھا۔ باسٹھ سالہ مائیکل فوغنیغے کو پولیس بلجیئم کے ساتھ فرانس کی سرحد پر واقع اس بنگلے میں لے کر گئی جس کا وہ ایک وقت مالک تھا اور اس میں رہتا رہا ہے۔ پولیس کو شبہ ہے کہ وہاں ایک بارہ سالہ بیلجئین لڑکی اور ایک فرانسیی عورت دفن ہیں۔ فوغینعے پر الزام ہے کہ وہ 1987 سے 2001 تک قتل کرتا رہا۔ اس کے جرم سے اس کی ناراض بیوی نے پردہ اٹھایا تھا۔ پولیس نےفوغینعے کی بیوی مانیکا اولیور کوحراست میں لے رکھا ہے کیونکہ اس نے خطرے میں گھرے ہوئے لوگوں کی مدد نہ کرکے جرم کا ارتکاب کیا ہے۔ سنیچر کو پولیس فوغینعے اور اس کی بیوی کو فرانس میں بیلجئیم کی سرحد پر واقع ایک بنگلے میں لے کر گئی۔ اطلاعات کے مطابق فوغنیغے نے پولیس کو دو جگہوں کی نشاندہی کی جہاں پر کھدائی کی جا رہی ہے۔ فوغنیغے کو بیلجئین پولیس نے 2003 میں لڑکیوں کو اغوا کر کے ان کے ساتھ جنسی بے راہ روی کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔ بدھ کو ملزم نے پولیس کو بتایا کہ اس نے پندرہ سال میں سات لڑکیوں کے ساتھ زیادتی کرنے کے بعد ان کو قتل کر دیا تھا۔ جمعہ کو اس نے دو مزید قتل کرنے کا بھی اقرار کیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ فوغنیغے اب تک پولیس سے بچنے میں اس لیے کامیاب رہا کیونکہ اس نے قتل سرحد کے دونوں جانب کیے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||