برطانوی کمپنیاں ’استحصال‘ کر رہی ہیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایک رپورٹ کے مطابق غیر ملکی کمپنیاں بنگلادیش میں ان کے لیے کام کرنے والے ٹیکسٹائل مزدوروں کو پانچ پینس فی گھنٹہ تک کی اجرت دیتی ہیں۔ ان کمپنیوں میں ٹیسکو، ایسڈا اور پرائمارک قابلِ ذکر ہیں۔ غربت مخالف تنظیم ’وار آن وانٹ‘ کے مطابق مزدور جن کی بڑی تعداد عورتیں ہیں ہفتے میں اسی گھنٹے سے زیادہ ’موت کے کارخانوں‘ میں کام کرتے ہیں۔ ٹیسکو، ایسڈا اور پرائمارک نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔ ’وار آن وانٹ‘ نے اپنی رپورٹ چھ بنگلہ دیشی فیکٹریوں میں کام کرنے والے ساٹھ ان کا کہنا ہے کہ فیکٹریوں میں نئے عملہ کو دی جانے والی تنخواہ بنگلادیش کی ’لیونگ ویج‘ سے تین گناہ کم ہے۔ تنطیم کا کہنا ہے کہ سلائی کی مشین چلانے والوں کے لیے اچھی تنخواہ سولہ پاؤند ماہانہ ہے۔ رپورٹ کے مطابق کچھ مزدور ایسے ہیں جو ہفتے میں 96 گھنٹے سے زیادہ کام کرتے ہیں اور ان کو ہفتہ کے آخر چھٹی ملنا بھی مشکل ہے۔ | اسی بارے میں ’افریقہ کو غربت کے خطرے کا سامنا‘07 October, 2006 | آس پاس اقتصادی ترقی، مگر مزدور کمزور: آئی ایل او29 August, 2006 | آس پاس یونس اورگرامین کو نوبل انعام13 October, 2006 | آس پاس ’دنیا بچوں کا پیٹ بھرنے میں ناکام‘02 May, 2006 | آس پاس ’غریب کی بہتری کے لیئے کچھ نہیں‘21 June, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||