یونس اورگرامین کو نوبل انعام | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بنگلہ دیش کے چھوٹے قرضے دینے والے گرامین بینک اور اس کے بانی محمد یونس کو اس سال کا امن کا نوبل انعام دیا گیا ہے۔ انعامات کے بارے میں فیصلہ کرنے والی سویڈن کی نوبل کمیٹی کے مطابق محمد یونس اور ان کے قائم کردہ ادارے کو یہ انعام غربت کے خاتمے کے لیے کام پر دیا گیا ہے۔ محمد یونس نے کہا ہے کہ ’میں بہت بہت خوش ہوں۔ یہ ہمارے اور بنگلہ دیش کے لیے بہت بڑا اعزاز ہے۔ یہ ہمارے کام کو تسلیم کرنا ہے۔ بطور ایک بنگلہ دیشی، مجھے فخر ہے کہ ہم نے بنگلہ دیش کو کچھ دیاہے۔ اب ہمارے کام کو پوری دنیا نے تسلیم کیا ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ ’یہ غریبوں کے حقوق کے لیے چلائی گئی ہماری تحریک کو شروع کرنا ہے۔ اس طرح تسلیم کیے جانے کے بعد ہم امید کرتے ہیں ہمارا ماڈل پوری دنیا میں پھیلے گا۔ دسیوں ہزار لوگ بنگلہ دیشی اور اس دوسرے جو پوری دنیا میں مائیکرو کریڈٹ پروگراموں کو فروغ دے رہے ہیں اس اعتراف سے بہت حوصلہ پائیں گے‘۔ گرامین بینک غریب لوگوں کو چھوٹے قرضے دینے کے لیے قائم کیا گیا تھا تاکہ وہ غربت سے نکل سکیں۔ یہ بینک محمد یونس نے سنہ 1976 میں بنگلہ دیش میں قائم کیا تھا۔ چھوٹے قرضے دینے کا یہ نظام پھر ’مائیکرو کریڈٹ‘ کے نام سے جانا گیا۔ نوبل کمیٹی کا اپنے فیصلے کے بارے میں کہنا تھا کہ ’پائدار امن تب تک ممکن نہیں ہے جبک تک آبادی کا ایک بڑا حصہ غربت سے نہ نکل سکے۔ مائیکروکریڈٹ غربت سے نکلنے کا راستہ ہے۔ مقامی سطح پر ترقی سے جمہوریت اور انسانی حقوق کو بھی فائدہ ہوگا۔‘ کمیٹی نے کہا کہ محمد یونس کو یقین تھا کہ عورتیں بھی یہ قرضے لے کر اپنی زندگیاں بدل سکیں گی۔ آج گرامین بینک سے ساٹھ لاکھ سے زیادہ افراد قرض لیتے ہیں اور 1997 سے قائم گرامین فاؤنڈیشن دنیا بھر میں امدادی کام کرتی ہے۔ |
اسی بارے میں غربت اور چھوٹی سطح پر سرمایہ کاری18 November, 2004 | Debate بیرونی لِنک بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||