BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت: Thursday, 18 November, 2004, 12:43 GMT 17:43 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
غربت اور چھوٹی سطح پر سرمایہ کاری

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کوفی عنان
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کوفی عنان
چھوٹی سطح پر سرمایہ کاری کئی ممالک میں غربت اور فاقہ کشی کے خلاف ایک ہتھیار ثابت ہوئی ہے۔ اس طرح کی سرمایہ کاری عوام کی زندگی بہتر بناسکتی ہے، بالخصوص ان لوگوں کی جنہیں اس کی خصوصی ضرورت ہے۔

ایک چھوٹا قرضہ، بچت کا کھاتہ، ایک پے چیک گھر بھیجنے کا آسان طریقہ کم آمدنی والی فیملی یا غریب لوگوں کے لئے کافی اہم ثابت ہوسکتے ہیں۔

مائیکروفائننس یعنی چھوٹی سطح پر سرمایہ کاری کے ذریعے غریب لوگ زیادہ پیسہ کما سکتے ہیں، وسائل کی تعمیر کرسکتے ہیں، اور غیرمتوقع نقصانات سے خود کو محفوظ بناسکتے ہیں۔

چھوٹی سطح پر سرمایہ کاری کے ذریعے غریب لوگ روز مرہ کی جدوجہد سے آگے بڑھ کر اپنے مستقبل کی تعمیر کرسکتے ہیں۔ وہ پیسہ اچھی غذا، صحت، مکان اور بچوں کی تعلیم میں لگاسکتے ہیں۔

اگر ہمیں اقوام متحدہ کے ہزاریہ ترقیاتی اہداف کو حاصل کرنا ہے تو ہمیں اسی طرح کی ترقی کی راہ ہموار کرنے کی ضرورت ہے۔

ہمیں یہ معلوم ہونا چاہئے کہ مائکروفائننس خیرات نہیں ہے۔ یہ ایک طریقہ ہے جو کم آمدنی والے خاندانوں کو وہی حقوق اور سہولیات فراہم کرے گا جو دیگر لوگوں کو دستیاب ہیں۔ چھوٹی سطح پر سرمایہ کاری اس بات کا اعتراف ہے کہ غریب لوگ مسئلہ نہیں، ایک حل ہیں۔

اس طرح کی سرمایہ کاری کے ذریعے غریب لوگوں کی امنگوں، خیالات اور خوابوں کی تعمیر کی جاسکتی ہے۔ یہ ایک طریقہ ہے جس کے ذریعے مفید منصوبوں کو کامیاب بنایا جاسکتا ہے اور غریب برادریوں کو ترقی کا موقع مل سکتا ہے۔

جب تجارتی ادارے ترقی نہیں کرتے، ممالک بھی ترقی نہیں کرتے۔ چلئے چھوٹی سرمایہ کاری کے سال کا آغاز کرتے ہیں تاکہ کروڑوں غریب خاندانوں کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا جاسکے۔

آپ کی رائے

کوفی عنان کے بیان کو پڑھنے کے بعد سوچئے اور ہمیں لکھئے کہ چھوٹی سرمایہ کاری کے ذریعے آپ اپنے پڑوس کو کیسے بہتر بنائیں گے؟ آپ سوچئے اور دنیا کو یہ بتائیے کہ اگر صرف ایک سو ڈالر یعنی چھ ہزار روپئے آپ کے پاس ہوں تو آپ کم آمدنی والے خاندان کی ترقی کی راہ ہموار کرنے کیلئے کون طریقہ اپنائیں گے؟



ارشد احمد، مردان:
میرے غریب پڑوسی کے پاس ایک سو ڈالر یعنی لگ بھگ چھ ہزار روپئے ہوں تو وہ چند بکریاں خرید کر پال سکتا ہے۔ اور یقینی طور پر اس طریقے سے اسے روزی کمانے کا ایک نیا ذریعہ مل سکتا ہے۔

شفقت خواجہ، اٹک:
اس سے ایک ماہ کا خرچ نہیں چل سکتا۔ اس سے کاروبار کیسے ہوسکتاہے؟

اپنی رائے بھیجیں
پہلا نام
خاندانی نام*
پتا
ملک
ای میل
ٹیلی فون*
* اختیاری
آپ کی رائے
بی بی سی آپ کی آراء میں کاٹ چھانٹ کر سکتی ہے اور اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتی کہ موصول ہونے والی تمام ای میل شائع کی جائیں گی۔
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد