BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 21 June, 2006, 11:01 GMT 16:01 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’غریب کی بہتری کے لیئے کچھ نہیں‘
کچی آبادی
’یہ اجلاس وینکوور کی بجائے ممبئی یا قاہرہ میں منعقد ہونا چاہیئے تھا‘
کینیڈا کے شہر وینکوور میں جاری ’ورلڈ اربن فورم‘ کے دوران ایک انڈین مندوب نے اس قسم کی کانفرنسوں کے انعقاد پر کڑی تنقید کی ہے اور کہا ہے کہ ایسے اجلاسوں میں غرباء کی بہتری کے لیئے بہت کم کام ہوتا ہے۔

انڈیا کی ایک کچی آبادی کے سابقہ رہائشی جوکن ارپوتھم نے ورلڈ اربن فورم کے مقامِ انعقاد اور اس میں شامل وفود کو بھی تنقید کا نشانہ بایا اور کہا کہ یہ افراد غربت کے خاتمے سے زیادہ اپنی رپورٹیں لکھنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

اس عالمی فورم میں دنیا بھر سے آبادی کے ماہرین اور سیاستدان شریک ہیں اور اس فورم کے منتظمین کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد دنیا کی شہری آبادی کو درپیش مسائل کے بارے میں آگاہی پیدا کرنا اور ان پر خیالات کا تبادلہ کرنا ہے۔

انڈیا کی کچی آبادیوں کے رہائشیوں کی تنظیم کے سربراہ جوکن ارپوتھم نے اپنے خطاب میں کہا کہ’ ہم اس قسم کے اجلاسوں کے انعقاد پر کڑی تنقید کرتے ہیں۔ اس اربن فورم کے انعقاد پر بہت زیادہ رقم اور وقت صرف ہوتا ہے اور نہ جانے کتنے مشیروں کو اس قسم کے اجلاس کے انعقاد کے لیئے ملازمت دی جاتی ہے‘۔

ممبئی کی سب سے بڑی کچی آبادی میں دس لاکھ افراد رہتے ہیں

انہوں نے کہا کہ اس قسم کے اجلاسوں کو وینکوور کی بجائے قاہرہ یا ممبئی میں منعقد ہونا چاہیے تاکہ وہاں کے شہری غرباء اپنے مسائل پر بات کر سکیں۔ ارپوتھم نے اپنی تقریر میں اقوامِ متحدہ پر بھی تنقید کی اور کہا کہ وہ نجی تعمیراتی اداروں اور حکومتی پروگراموں کی خاطر کچی آبادیوں کے رہائشیوں کی جبری بے دخلی کو روکنے میں ناکام رہی ہے۔

وینکوور میں ہونے والا یہ فورم اپنی نوعیت کا تیسرا اجلاس ہے اور اس کے ایجنڈے پر ماحول کے بچاؤ اور صاف اور صحتمندانہ ماحول کے حامل شہروں کے قیام جیسے معاملات شامل ہیں۔

اس فورم سے قبل جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سنہ 2007 کے اختتام تک دنیا کی نصف آبادی شہروں میں رہائش پذیر ہوگی جبکہ ایک اندازے کے مطابق سنہ 2030 تک یہ شرح اسّی فیصد تک جا پہنچے گی۔

اسی بارے میں
سب سےبڑی غربت مٹاؤ سکیم
02 February, 2006 | انڈیا
ایک روپے کے لیے خودکشی
24 September, 2005 | انڈیا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد