مالڈووا میں جنسی تجارت | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
یورپ کے غریب ترین ملک مالڈووا سے باہر بہتر زندگی کی تلاش میں کوشاں لاکھوں خواتین بے رحم جنسی تاجروں کے ہاتھوں جنسی استحصال کا شکار ہو رہی ہیں۔ مالڈووا کے دارالحکومت چسناؤ میں عام طور پر ایک دن کے کام کا معاوضہ لگ بھگ دو ڈالر ہے اور ملک کے دیہات میں اس سے بھی کم۔ اس وجہ سے کئی لوگ ملک سے باہر کام کی تلاش کرتے ہیں۔ یہ لوگ اپنی زندگی کو بہتر بنانے کے لیےخطرات کا سامنا کرنے کو بھی تیار ہیں۔ اسی وجہ سے جنسی تجارت کرنے والے عناصر اس غربت اور مجبوری کا فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ ایسے لوگ نوجوان لڑکیوں کو یورپ میں کام دلانے کے بہانے انہیں اپنے جال میں پھانس لیتے ہیں اور پھر انہیں جنسی تجارت پر مجبور کر دیتے ہیں۔ فلورکا کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔ فلورکا اور ان کی تین بہنوں کو بچپن میں ہی ان کی ماں نے چھوڑ دیا تھا۔ فلورکا سے کہا گیا تھا کہ اسے پیرس میں ایک دفتر میں نوکری دلائی جائے گی۔ مگر جب وہ پیرس جانے کے لیے رومانیا پہنچی تو وہاں سے اسے زبردستی ماسکو لے جایا گیا جہاں چھ ماہ تک اسے سینکڑوں مردوں سے جنسی عمل کرنے پر مجبور کیا گیا۔ مالڈووا کی پولیس صورت حال پر قابو پانے کی کوشش کر رہی ہے مگر اس کے پاس بھی وسائل کا فقدان ہے۔ پولیس سپرنٹینڈینٹ ایون بیجان کا کہنا ہے ان کے پاس تمام کیسوں کی تحقیقات کرنے کے لیے وسائل نہیں ہیں۔ غربت کے ساتھ ساتھ مالڈووا میں بدعنوانی بھی عام ہے۔ سپرنٹینڈینٹ بیجان نے بھی اس بات کا اعتراف کیا اور کہا کہ اب حالات بہتر ہو رہے ہیں۔ مالڈووا کی غربت اور وہاں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے باعث اسے یورپ کا حصہ قرار دینا مشکل لگتا ہے۔ مالڈووا بھی افریقہ کی ہی طرح غربت کا شکار ہے اور یہاں رہنے والے اپنا ملک چھوڑ کر بہتر زندگی کا آغاز کرنا چاہتے ہیں۔ ہر روز مولڈووا سے رومانیا جانے والی بسوں کے لیے بھیڑ لگی رہتی ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ بہتر زندگی کی امید میں ملک چھوڑ کر جانے والی لڑکیوں کی زندگیاں جنسی تاجروں کے گروہوں کی وجہ سے مزید مشکلات سے دو چار ہو جاتی ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||