BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 30 September, 2004, 06:11 GMT 11:11 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پانچ لاکھ بچوں وخواتین کی تجارت
جنسی تجارت کے لیے عموماً چھوٹی بچیوں کو سمگل کیا جاتا ہے
جنسی تجارت کے لیے عموماً چھوٹی بچیوں کو سمگل کیا جاتا ہے
اقوام متحدہ کے بچوں سے متعلق ادارے یونیسف نے خبردار کیا ہے کہ جنوبی ایشیا میں بچوں اور خواتین کی جنسی تجارت تشویش ناک حد تک بڑھتی جا رہی ہے۔

یونیسف کے اندازے کے مطابق جنوبی ایشیا سے سالانہ تقریباً پانچ لاکھ خواتین اور بچے پورے براعظم ایشیا کے لیے سمگل کیے جاتے ہیں۔

یونیسف کے علاقائی ڈائریکٹر صادق رشید نے کہا کہ اگر مرد بچوں کا جنسی استحصال بند کر دیں تو بہت سے مسائل کا خاتمہ ’ کل‘ ہو سکتا ہے۔

ڈاکٹر صادق رشید نے کہا کہ اس ضمن میں پوری دنیا میں سمگل ہونے والے بچوں اور خواتین کی نصف تعداد صرف ایشیا میں سمگل ہوتی ہے۔

انہوں نے اس صورت حال کو جدید دور میں غلامی سے تعبیر کیا۔

سری لنکا کے دارالحکومت کولمبو میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ برصغیر میں بچوں کی جنسی تجارت زیادہ تر مقامی باشندوں کے لیے کی جاتی ہے۔

ڈاکٹر صادق رشید کے بقول بچوں کی جنسی تجارت کا بازار جنوبی ایشیائی مردوں کے اطمینان کی خاطر گرم ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد