محنت کش بچے 33لاکھ سے زائد | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی قومی اسمبلی کی بتایا گیا ہے کہ ملک میں محنت مزدوری کرنے والے بچوں کی تعداد تینتیس لاکھ سی تجاوز کر چکی ہے۔ پاکستانی قومی اسمبلی کو بتایا گیا ہے کہ ملک میں چھتیس لاکھ نوے ہزار افراد بے روزگار ہیں اور حکومت کا دعویٰ ہے کہ بے روزگاری ختم کرنے کے لیے متعدد اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی غلام مرتضیٰ ستی کے سوال پر وزیر محنت و افرادی قوت نے تحریری جواب میں بتایا کہ مالی سال دو ہزار ایک اور دو میں ہونے والے ایک سرکاری سروے کے مطابق کل لیبر فورس کا 8.27 فیصد یا 3.69 ملین افراد بے روزگار تھے۔ وزیر کے مطابق جنوری سن دو ہزار چار میں ایک اندازے کے مطابق پاکستان کی کل آبادی پندرہ کروڑ پانچ لاکھ نوے ہزار ہوچکی ہے ۔ بے روزگاری ختم کرنے کا ذکر کرتے ہوئے جواب میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ یکم جولائی سے شروع ہونے والے مالی سال میں دو سو دو ارب روپے کی لاگت سے متعدد ایسے منصوبے شروع کیے جائیں گے جس سے دس لاکھ افراد کو روزگار مل سکے گا۔ کام کے قابل افراد کو مختلف نوعیت کی فنی تربیت بھی دی جائے گی تاکہ ہنر مند افرادی قوت پیدا کی جا سکے۔ جبکہ ’ ایس ایم ای بینک، خوشحالی بینک اور زرعی ترقیاتی بینک، خود روزگاری یا سیلف ایمپلائمنٹ کے لئے آسان شرائط پر قرضے بھی جاری کر رہے ہیں۔ پاکستان میں مشقت کرنے والے بچوں یا چائلڈ لیبررز کی تعداد کے بارے میں عبدالستار افغانی کے سوال پر ایوان کو بتایا گیا کہ اس ضمن میں تازہ اعداد و شمار موجود نہیں ہیں ۔ تاہم محنت و افرادی قوت کے وزیر کے بقول انیس سو چھیانوے میں کیے گئے سروے کے مطابق ملک میں محنت کش بچوں کی تعداد تینتیس لاکھ تیرہ ہزار تھی۔ مرتضیٰ ستی کے ایک اور سوال کے جواب میں کابینہ ڈویزن کے انچارج وزیر کا کہنا تھا کہ پاکستان کے کسی صوبے کی بھی سرحدیں تبدیل کرنے کا معاملہ زیر غور نہیں ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||