| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
قومی اسمبلی کا اجلاس ملتوی
صدر جنرل پرویز مشرف نے قومی اسمبلی کا اجلاس غیر معینہ مدت کےلیے ملتوی کر دیا ہے۔ تاہم حزب اختلاف کے مسلسل احتجاج کی وجہ سے وہ سال بھر میں ایوان کے مشرکہ اجلاس سے خطاب نہ کر سکے۔ موجودہ اسمبلی کا یہ طویل ترین اجلاس تیراسی دن جاری رہا۔ سیاسی مبصرین کے مطابق یہ اجلاس صرف آئینی ضرورت کو پورا کرنے کے لئے جاری رکھا گیا۔ آئین کی رو سے قومی اسمبلی کے لیے لازم ہے کہ وہ ایک سال میں کم سے کم ایک سو تیس دن اجلاس کرے۔ تقریباً تین مہینے چلنے والے اجلاس میں یا پورے پارلیمانی سال میں کسی قسم کی قانون سازی نہیں ہوسکی۔ حکومتی اراکین حزب اختلاف کو اس کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں جبکہ حزب اختلاف اسے حکومتی نا کامی قرار دیتے ہیں۔ گزشتہ روز حکومت کے رکن رجب علی بلوچ نے ایوان کو بتایا کہ حکومت نے پارلیمانی سال میں انیس سو تیس سوالوں کے جواب دیئے ، بائیس بل پیش کیے اور اٹھاون قراردادوں کو ایوان کے سامنے رکھا۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ حزب اختلاف نے اجلاس کی کارروائی کا بائیکاٹ کیا مگر اس کے اراکین باقاعدگی سے تحریری سوالات داخل دفتر کرتے رہے۔ حزب اختلاف کے اراکین نے دعوی کیا ہے کہ انہوں نے پانچ ہزار مرتبہ ’گو مشرف گو‘ اور ’نو ایل ایف او نو‘ کے نعرے لگائے۔ امید کی جا رہی تھی کہ میر ظفر اللہ جمالی پارلیمانی سال کے خاتمے پر اراکین قومی اسمبلی کومبارک باد پیش کریں گے، مگر اجلاس کے آخری دن انہوں نے اسمبلی کی کارروائی میں شرکت نہیں کی اور سپیکر قومی اسمبلی چوہدری امیر حسین بھی غیر حاضر تھے ۔ حالیہ اجلاس کے دوران کئی اہم واقعات رونما ہوئے جس میں ملت اسلامیہ کے سربراہ مولانا اعظم طارق کا قتل اور اتحاد برائے بحالی جمہوریت کے صدر جاوید ہاشمی کی گرفتاری قابل ذکر ہیں۔ گو کہ اجلاس غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دیا گیا ہے لیکن متحدہ اپوزیشن نے عندیہ دیا ہے کہ وہ ایوان بالا اور ایون زیریں کے اجلاس بلانے کے جلد ہی درخواستیں جمع کرائے گی۔ گزشتہ پارلیمانی سال کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ صدارتی خطاب کی آئینی پابندی کو پورا نہیں کیا گیا، حکومت کا کہنا ہے کہ یہ صدر کی صوابدید پر ہے کہ وہ ایسا کرے یا نہ کرے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||