چین: بچوں کی سمگلنگ پر سزائیں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جنوبی چین میں ایک عدالت نے باون افراد کو بچے سمگل کرنے کے الزام میں مجرم قرار دے دیا ہے۔ عدالت نے باون میں سے چھ کو سزائے موت سنائی ہے جبکہ پانچ کو عمر قید کی سزا دی ہے۔ چین کی تاریخ میں بچوں کی سمگلنگ کا یہ سب سے بڑا کیس ہے۔ اطلاعات کے مطابق سمگلروں نے تقریباً دو برس کے عرصے میں ایک سو اٹھارہ بچوں کی خرید و فروخت کی جن میں بیشتر لڑکیاں ہیں۔ یہ واقعہ گزشتہ برس اس وقت منظر عام پر آیا جب پولیس نے جنوب مغربی چین میں ایک بس سے اٹھائیس بچے برآمد کیے جنہیں سفری بیگوں میں چھپایا گیا تھا۔ ان میں سے ایک بچہ سردی کے باعث مر چکا تھا۔ بیرونی ممالک کے لیے یہ واقعہ بلا شبہ ایک دھچکے سے کم نہ تھا لیکن چین کے دیہی علاقوں میں ایسے واقعات کئی برسوں سے جاری ہیں اور ان میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ ایسے واقعات کی وجہ چین کا فیملی پاننگ سے متعلق قانون ہے جس کے تحت میاں بیوی کو ایک پچہ پیدا کرنے تک محدود رکھا جاتا ہے۔ اس وجہ سے لڑکے کے خواہشمند والدین لڑکی کی پیدائش سے پہلے ہی اسے فروخت کر ڈالتے ہیں کہ کہیں اس کا اندراج نہ کرانا پڑ جائے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||