رنگا رنگ بورس یلسن چلے گئے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بورس یلسن اگرچہ سوویت نظام کی پیداوار تھے اور انکا شمار زوال آمادہ کیمونسٹ سلطنت کے آخری ادوار کے کلیدی رہنماؤں میں ہوتا تھا لیکن ایک روایتی، خشک اور بوڑھی کیمونسٹ قیادت کے برعکس یلسن رنگا رنگ جولانیِ طبع سے آراستہ تھے۔انکے بعض قریبی ساتھیوں کی رائے تھی کہ یلسن کی سب سے قریبی مشیر ووڈکا تھی اور انکے سیاسی فیصلوں میں جس طرح کا طوفانی اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا اس سے یہ بات دل لگتی محسوس ہوتی ہے۔ مثلاً آخری سوویت رہنما میخائیل گورباچوف کو جب اگست انیس سو اکیانوے میں ریڈ آرمی کے چند طالع آزما جنرلوں نے کریمیا میں نظربند کردیا تو یہ بورس یلسن ہی تھے جنہوں نے ماسکو میں پرسترائیکا (تعمیرِ نو) اور گلاسنوسٹ ( کھلے پن) کی گورباچوف پالیسیوں کے دلدادہ عوام کو جرنیلوں کے بالمقابل کھڑا کردیا اور صرف تین روز میں فوجی بغاوت جھاگ کی طرح بیٹھ گئی لیکن یہی بورس یلسن تھے جنہوں نے صدر بننے کے بعد نئی نئی روسی پارلیمان کے اختلاف رائے کا علاج پارلیمنٹ کی عمارت پر ٹینکوں کے گولے برسا کر ڈھونڈنے کی کوشش کی۔ بورس یلسن نے نو آزاد روس میں پھیلے ہوئے انتشار کا کوئی پائیدار علاج ڈھونڈنے کے بجائے اپنے حاشیہ بردار سابق کیمونسٹوں اور دوستوں کو نہ صرف کلیدی عہدے بانٹے بلکہ سوویت دور کے بڑے بڑے صنعتی شعبے بخشش میں عطا کردیے۔ اس کے نتیجے میں روسی معیشت ایک طاقتور موقع پرست مافیا کے چنگل میں پھنس گئی۔ اس ظالمانہ، ناتجربہ کار نج کاری کے نتیجے میں جو نودولتیا کلچر پیدا ہوا اس نے پالنے سے قبر تک ہر ضرورت کے لیے ریاست کی جانب دیکھنے کے عادی عام روسی کو فٹ پاتھ پر کھڑا کردیا۔ یہ بات مغرب کے بھی مفاد میں تھی کہ ایک بڑی سلطنت کا ملبہ بکھرنے کے نتیجے میں روس مسائل کے جس گرداب میں پھنس گیا ہے اگلے کئی برس تک وہ اسی میں پھنسا رہے۔
مگر بورس یلسن کی سب سے بڑی غلطی جس نے انہیں بالآخر زوال اور گمنامی میں دھکیل دیا چیچنیا پر بلا سوچے سمجھے فوج کشی تھی۔ چیچنیا کی غیر متوقع مزاحمت نے نئی روسی اسٹیبلشمنٹ کی کمزوریوں کو پوری طرح عیاں کردیا۔ دو برس بعد ہی یلسن کو چیچنیا کی آ زادی تسلیم کرتے ہوئے فوج واپس بلانا پڑی۔ پھر یلسن کی میڈیا میں اس طرح کی تصاویر آنے لگیں کہ ایک کانفرنس کے دوران انہوں نے قریب سے گذرتی ہوئی ایک خاتون سے نازیبا حرکت کردی یا کسی تقریب میں بولتے بولتے سو گئے۔ دل کے عارضے میں مبتلا ہونے کے سبب بار بار ہسپتال جانے لگے۔ ان حالات میں انکے قریبی ساتھیوں کے پاس یہ مشورہ دینے کے علاوہ کوئی چارہ نہ تھا کہ بورس یلسن کو سیاست سے کنارہ کش ہو کر آرام کرنا چاہیے۔ اقتدار سے سبکدوشی کے بعد میڈیا میں بورس یلسن کا تذکرہ بھی غائب ہوگیا اور پیر کو دنیا سے ان کی رخصتی کی خبر آگئی۔ | اسی بارے میں عراق میں روسی مفاد04.10.2002 | صفحۂ اول تصویر میں سر ڈھانپنے کے خلاف فیصلہ02.08.2002 | صفحۂ اول روس: نئی کمونِسٹ پارٹی کا قیام30.06.2002 | صفحۂ اول روس: جی آٹھ کی باقاعدہ رکنیت27.06.2002 | صفحۂ اول روس:قابلِ کاشت زمین پر غیروں کا حق ختم21.06.2002 | صفحۂ اول ہار منانےکا روسی طریقہ09.06.2002 | صفحۂ اول ہار کے بعد ماسکو میں تشدد09.06.2002 | صفحۂ اول نیٹو، روس تعلقات کا نیا دور28.05.2002 | صفحۂ اول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||